جھولے سے قبر تک
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۶
جھولے سے قبر تک
قرآن کی سورہ التکاثر میں انسان کی ایک عمومی حالت کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:اَلْھَکُمُ التَّکَاثُرُ حَتَّی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (102: 1-2) یعنی زیادہ سے زیادہ کی حرص نے تم کو غفلت میں رکھا، یہاں تک کہ تم قبروں میں جاپہنچے۔
انسان کا حال یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے ۔ وہ اِسی عمل میں مشغول رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلا جاتا ہے کہ اس نے جس چیز کے حصول کو اپنا نشانہ بنایا تھا، اس کو وہ حاصل نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ مال برائے ضرورت کی ایک حد ہے۔ اس کے برعکس مال برائے مال کی کوئی حد نہیں۔ اگر انسان ضرورت کے لئے مال حاصل کرنا چاہے تو ایک حد پر پہنچ کر اس کو اطمینان حاصل ہو جائے گا۔ لیکن انسان اگر مال برائے مال کو اپنی زندگی کا نشانہ بنائے تو اس کی طلب کی کبھی کوئی حد نہیں آئے گی۔ انسان بے اطمینانی کی حالت میں جئے گا، اور بے اطمینانی کی حالت میں مر جائے گا۔ امریکا کے مشہور دولت مند بل گیٹس (Bill Gates) نے اپنی زندگی کا مقصد یہ بنایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرے۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن گئے۔ لیکن آخر میں ان کو محسوس ہوا کہ میری ضرورت تو محدود ہے۔ پھر اس کثیر دولت کا کیا استعمال۔ انھوں نے اپنے ایک لکچر میں کہا کہ:
Once you get beyond a million dollars, it is the same hamburger. یعنی تم خواہ کتنی ہی زیادہ دولت حاصل کر لو مگر تمھاری خوراک وہی تو رہتی یعنی تم خواہ مخواہ لینی ہی زیادہ دولت حاصل کرلو ، مگر تمھاری ضرورت تو بدستور وہی سینڈوچ رہے گی۔ یہ ہر اُس آدمی کا انجام ہوتا ہے، جو زیادہ دولت کمانے کو اپنا نشانہ بنائے۔ آخر میں عدم اطمینان ۔ یہ ہر اس ادنیٰ کا انجام ہوتا ہے، جو زیادہ دُھم مچائے یا اپنا سا یہ بنا ہے۔ کے سوا کچھ اور اُس کے حصے میں آنے والا نہیں ۔
میں عدم میان
‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues