Al-Risala · October 2014 · page 37

دلیل یا شوشہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۷

دلیل یا شوشہ

ایک بت پرست شخص سے ایک مسلمان نے قرآن کے حوالے سے کہا کہ آپ غیر اللہ کو حاجت روائی کے لیے مت پکارا کریں۔ کیوں کہ قرآن (22:73) میں بتایا گیا ہے کہ سارے بت مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، اور اگر ایک مکھی اُن سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اُس کو مکھی سے واپس بھی نہیں لے سکتے۔ بت پرست شخص نے جواب دیا کہ ہم لوگ بتوں سے مکھیاں پیدا کرانا نہیں چاہتے۔ اور اگر کوئی مکھی ان بتوں سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اس سے ان کا کیا نقصان ہوتا ہے، وہ تو خزانوں کے مالک ہیں۔

بت پرست شخص کی یہ بات دلیل نہیں ہے بلکہ وہ ایک شوشہ ہے۔ قرآن میں جو بات کہی گئی ہے وہ تمثیل کی زبان میں ہے۔ اس کا مقصد مکھی کا معاملہ بتانا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد مفروضہ اصنام کی کمزوری کو بتانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے مفروضہ اصنام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ وہ بارش برساتے ہیں، وہ انسان کو اولاد دیتے ہیں، وہ انسان کے مسائل کو حل کرتے ہیں۔ یہ سب بے بنیاد مفروضات ہیں۔ ان مفروضات کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس مثال میں مکھی کا لفظ کمزوری کی علامت کے طور پر آیا ہے، نہ کہ مکھی جیسے ایک حیوان کو بتانے کے لیے۔ لوگوں میں اس طرح کا کمزور استدلال بہت عام ہے۔ لوگ عام طور پر دلیل کا جواب دلیل سے دینا نہیں جانتے۔ وہ اکثر ایسا کرتے ہیں کہ دلیل کے جواب میں ایک غیر متعلق مثال بیان کر دیں گے۔ وہ صاحب دلیل کے خلاف عیب جوئی کی زبان استعمال کریں گے۔ وہ دعویٰ کی زبان بولیں گے، حالاں کہ دعویٰ کی زبان سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔

دلیل کے بجائے شوشے کا طریقہ اتنا وسیع ہے کہ اگر کوئی شخص چاہے تو قرآن اور حدیث کے معاملے میں بھی، وہ اُس کو استعمال کر سکتا ہے، مگر شوشہ محض ایک جوک (joke) ہے، وہ ہر گز کوئی دلیل نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues

Printed page