تلاوت کا فائدہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۹
تلاوت کا فائدہ
ایک بار ایک سفر میں ایک صاحب میرے ساتھ تھے۔ میں نے دیکھا کہ اُن کے پاس پاکٹ سائز کا ایک معری قرآن ہے۔ جہاں موقع ملتا ہے، وہ اس کی تلاوت کرنے لگتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میرا یہ معمول تقریباً پندرہ سال سے ہے۔ اس طرح ہر مہینے میں ایک بار میں پورا قرآن پڑھ لیتا ہوں۔ میں نے اُن سے کہا کہ آپ ماشاء اللہ روزانہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ آپ بتائیے کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اس اعتبار سے کبھی غور نہیں کیا۔ میں قرآن کو ثواب کی نیت سے پڑھتا ہوں۔ یہی عام طور پر لوگوں کا حال ہے۔ لوگ قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن اُن کا پڑھنا برائے تلاوت ہوتا ہے، برائے تدبر نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر عام طور پر اسی قسم کی تلاوتِ قرآن کا رواج ہے۔ مگر اصحاب رسول کے زمانے میں اس قسم کی تلاوتِ قرآن کا رواج نہ تھا۔ ایک بار حضرت عائشہ سے ایسے کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا جو معنوی تدبر کے بغیر صرف الفاظ کی تلاوت کے طور پر قرآن کو پڑھتے تھے۔ حضرت عائشہ نے یہ سن کر کہا: اولئك قرءوا ولم يقرءوا (شعب الإيمان، رقم الحدیث: 1925) یعنی انھوں نے قرآن کو پڑھا، مگر انھوں نے قرآن کو نہیں پڑھا۔
اس سلسلہ میں قرآن میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ اس پہلو سے قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِيَدَّبَّرُوۡا اٰيٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے۔ جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن کے نزول کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ اس کو تبرک کے طور پر لیں۔ اور اُس سے پراسرار ثواب حاصل کریں۔ بلکہ قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ اس کی آیتوں پر غور کیا جائے۔ اِس سے زندگی کے اصول معلوم کئے جائیں۔ اُس سے کامیابی اور نا کامی کا راز دریافت کیا جائے ۔ اُس سے امتوں کے عروج و زوال کا قانون دریافت کیا جائے ۔ قرآن سے رہنمائی حاصل کر کے اپنے آپ کو اس طرح تیار کیا جائے جو آدمی کو اللہ کی رحمت و سعادت کا مستحق بنائے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues