Al-Risala · October 2014 · page 40

فکری اعتدال

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴۰

فکری اعتدال

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خیر الأمور أوساطہا (شعب الإيمان للبيهقي، رقم الحديث : 3605) یعنی معاملات میں سب سے بہتر طریقہ درمیانی طریقہ ہے۔

اس حدیث رسول میں زندگی کا ایک نہایت اہم اصول بتایا گیا ہے۔ اس اصول کی اہمیت ہر انسان کے لیے ہے۔ یہ اصول کسی انسان کے ذہنی ارتقا کے لیے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حدیث رسول کو سمجھنے کے لیے ایک اصول کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، وہ یہ کہ اس میں ’خیر الأمور‘ کا لفظ آیا ہے، اس میں ’خیر الأفكار‘ کا لفظ نہیں آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس حدیث میں جس توسط کا ذکر ہے، اس کا تعلق فکری چیزوں سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق عملی چیزوں سے ہے، یعنی آدمی کو چاہیے کہ وہ عملی معاملات میں توسط کا طریقہ اختیار کرے، لیکن فکری معاملات کی نوعیت اس سے مختلف ہے۔

توسط اور اعتدال دونوں تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں۔ عملی زندگی میں توسط اور اعتدال کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اعتدال پسندی کا بالمقابل لفظ انتہا پسندی ہے۔ اعتدال پسندی سے اجتماعی زندگی میں امن قائم ہوتا ہے اور انتہا پسندی سے اجتماعی زندگی درہم برہم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اجتماعی زندگی کا بہترین اصول یہ ہے کہ اس کو توسط اور اعتدال پر قائم کیا جائے۔ لیکن فکر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ فکر کسی آدمی کا ایک ذاتی مسئلہ ہے۔ فکر کے معاملے میں آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی عقل اور اپنے ضمیر پر چلے۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ آدمی عملی نوعیت کے اجتماعی معاملات میں آخری حد تک مصالحانہ انداز (compromising attitude) اختیار کرے اور فکر کے معاملے میں آدمی آخری حد تک غیر مصالحانہ انداز (uncompromising attitude) اختیار کرے۔ یہی اسلام کا طریقہ بھی ہے اور یہی دانش مندی کا طریقہ بھی۔ (12 جنوری، 2014)

‹ Previous page Next page › Contents of October 2014 All issues

Printed page