از دِیا دِ ایمان
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲
از دِیا دِ ایمان
ایمان پتھر کی طرح کوئی جامد چیز نہیں۔ ایمان ایک زندہ حقیقت ہے۔ ایمان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں از دِ یا دِ ایمان (48:4) کہا گیا ہے۔ یعنی ایمان کا مسلسل بڑھتے رہنا۔ یہ اضافہ ایمان، تدبر کے ذریعہ ہوتا ہے۔ مومن قرآن میں اور خدا کی نشانیوں میں برابر غور کرتا ہے، اس طرح اُس کو نئے نئے پہلوؤں کی دریافت ہوتی رہتی ہے۔ ان دریافتوں کے ذریعہ اُس کے ایمان و یقین میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
اس کی ایک مثال سورج گرہن اور چاند گرہن کا معاملہ ہے۔ ہزاروں سال پہلے کے زمانے میں جب ایک انسان اس ظاہر کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا تو اُس وقت بھی یہ ظاہر ہ اس کے ایمان میں اضافہ کا سبب بنتا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ اللہ کتنا زیادہ قدرت والا ہے۔ وہ روشن اجسام (سورج، چاند) پر اندھیرے کا پردہ ڈال دیتا ہے۔ اور پھر اندھیرے کا پردہ ہٹا کر، اُس کو دوبارہ روشن کر دیتا ہے۔ یہ بھی اضافہ ایمان کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ بھی صاحب ایمان کے لیے یقینی طور پر اضافہ ایمان کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں دوربین (telescope) کی ایجاد نے اضافہ ایمان کے معاملے کو بہت زیادہ بڑھا دیا۔ آج جب دوربین کی مدد سے سورج گرہن اور چاند گرہن کا مطالعہ کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ یہ ظاہر ہ اللہ کی عظیم قدرت کا انوکھا نشان ہے۔ اب دوربین بینی مشاہدے کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ گرہن اُس وقت ہوتا ہے، جب تین مختلف سائز کے متحرک اجسام وسیع خلا میں، ایک بے حد متناسب دوری کے ساتھ ایک وقت خاص میں ایک سیدھ میں آ جائیں:
Alignment of three moving bodies of different sizes at a particular point in time, in the vast space. از دیادِ ایمان کی نعمت اُس انسان کو حاصل ہوتی ہے، جس کے اندر مسلسل تدبر کے ذریعہ تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہوگئی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues