کشمیر بیداری
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳
کشمیر بیداری
ستمبر 2014 میں کشمیر میں ایک تباہ کن سیلاب آیا۔ ایسے تباہ کن سیلاب کی مثال کشمیر کی سو سال کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس تباہی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک فطری آفت (natural calamity) تھی، یعنی وہ انسان کی طرف سے نہ تھی، بلکہ وہ براہِ راست خدا کی طرف سے تھی۔ ایسی حالت میں کشمیریوں کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے خدا کی کتاب قرآن کا مطالعہ کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا سیلاب سادہ طور پر ایک سیلاب نہ تھا، بلکہ وہ ایک خدائی انتباہ (Divine warning) تھا۔ وہ براہِ راست خدا کی طرف سے ایک پیغام تھا۔ کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کو اسی حیثیت سے دیکھیں ۔ وہ کشمیر کے سیلاب کو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ایک اصلاحی پیغام قرار دیں۔
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ کِتٰبًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (21:10)۔ یعنی ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمھارے لیے نصیحت ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہئے کہ وہ ہر موقعے پر قرآن کی آیتوں پر غور کریں۔ وہ ہر سوال کا جواب قرآن میں دریافت کریں۔ یہی عمل کشمیریوں کو موجودہ حالت میں کرنا چاہئے۔ یعنی قرآن میں غور کر کے اپنے لیے لائحہ عمل دریافت کرنا، اور اس کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔
اس حیثیت سے قرآن کا مطالعہ کیجئے تو اس معاملے کی ایک نظیر حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی میں ملتی ہے۔ حضرت یونس آٹھویں صدی قبل مسیح میں پیغمبر کی حیثیت سے نینویٰ (عراق) میں آئے۔ آپ نے یہاں کے لوگوں کو خدائے واحد کی طرف بلایا۔ ابتدائی طور پر قوم نے آپ کے پیغام کو نہیں مانا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues