Al-Risala · November 2014 · page 9

جنت اور انسان

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۹

ایک حدیث

حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: ”عن أبي هريرة، قال، جلس جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فنظر إلى السماء فإذا ملك ينزل، فقال جبريل: إن هذا الملك ما نزل منذ يوم خلق، قبل الساعة، فلما نزل قال، يا محمد، أرسلني إليك ربك، أفملكانبيايجعلك،أو عبدارسولا؟ قال جبريل: تواضع لربك يا محمد۔ قال: بل عبداً رسولاً۔ (مسند أحمد: 7160) یعنی جبریل آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے۔ انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اُس وقت ایک فرشتہ آسمان سے اتر رہا تھا۔ جبریل نے کہا کہ یہ فرشتہ اپنی پیدائش کے بعد، اس وقت سے پہلے کبھی زمین پر نہیں آیا۔ جب وہ فرشتہ آ گیا تو اس نے کہا کہ اے محمد، آپ کے رب نے مجھ کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اللہ آپ کو بادشاہ نبی بنائے یا عبد رسول۔ جبریل نے کہا کہ اے محمد، اپنے رب کے لیے متواضع بنئے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، میں عبدرسول بننا پسند کرتا ہوں۔

یہی وہ بات ہے جس کو قرآن میں وبشراً رسولاً (17:93) کہا گیا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات صرف پیغمبر کے لیے نہیں ہے، بلکہ پیغمبر کی امت کے لیے بھی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر ہر اعتبار سے امت کے لیے نمونہ ہے اور یقیناً اس حدیث رسول سے معلوم ہوا کہ پیغمبر اور پیغمبر کی امت کا منصب یہ نہیں ہے کہ وہ اس دنیا میں لوگوں کے اوپر سیاسی حکمرانی (political rule) قائم کرے۔ قانون فطرت کے مطابق، اس دنیا میں سیاسی حاکمیت کسی ایک گروہ کی اجارہ داری نہیں۔ اہلِ ایمان کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا میں عبد اور بشر بن کر رہیں، وہ اس دنیا میں قانون کے نفاذ کا جھنڈا نہ اٹھائیں، بلکہ خود اپنے آپ کو اللہ کے احکام کا پابند بنائیں۔ اس دنیا میں انسان کا امتحان اپنی ذات کے اعتبار سے ہے، نہ کہ اقوام عالم کے اعتبار سے۔ پیغمبر نے جو بات اپنے لیے عبد رسول کے الفاظ میں کہی تھی، وہی دوسرے لوگوں کے لیے عبد انسان کے طور پر درست ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues

Printed page