Al-Risala · November 2014 · page 8

جنت اور انسان

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۸

جنت اور انسان

جنت اور انسان ایک دوسرے کا ثانی (counterpart) ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی (complementary) چیز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جنت انسان کے لیے بنائی گئی ہے اور انسان جنت کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ـ جنت مطلوب انسان ہے اور انسان مطلوب جنت۔ انسان کے بغیر جنت ادھوری ہے، اور جنت کے بغیر انسان ادھورا۔ یہ بات خود تخلیقی منصوبے میں شامل ہے کہ اس دنیا میں جنتی انسان تیار ہوں جو جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جاسکیں۔ قرآن کی سورہ النساء میں یہ آیت آئی ہے: مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا (4:147) یعنی اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا، اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لاؤ۔ اللہ بڑا قدرداں ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تقاضا اس طرح پورا نہیں ہوتا کہ لوگ برے اعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنالیں۔ اللہ کا تخلیقی منصوبہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں، اور پھر آخرت میں پہنچ کر وہ جنت کے باغوں میں آباد ہوں۔ مفسر ابوالبرکات النسفی (وفات: 1310ء) نے مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت لکھا ہے: الإيمان: معرفة المنعم، والشكر: الاعتراف بالنعمة (تفسير النسفي: 1/259) یعنی ایمان، منعم کی معرفت ہے، اور شکر، نعمت کے اعتراف کا نام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اپنے رب کو دریافت کرے، وہ مخلوق کے ذریعے خالق کا تعارف حاصل کرے ۔ شکر کا مطلب خدا کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ اس دنیا میں جو کچھ انسان کو ملا ہوا ہے، وہ سب خدائے برتر کا انعام (blessing) ہے۔ اس انعام کے لیے دل سے منعم (giver) کا معترف ہونا، بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues

Printed page