سبیل اللہ سے انحراف
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۱
سبیل اللہ سے انحراف
ایک روایت حدیث کے مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد (رقم الحدیث : 4142) کے الفاظ یہ ہیں : عن عبد الله بن مسعود قال: خط لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوماً خطاً، قم قال: هذا سبيل الله، ثم خط خطوطاً عن يمينه وعن شماله ثم قال: هذه سُبُل متفرقة على كل سبيل منها شيطان یدعوا إليه ۔ ثم قرأ هذه الآية: ’’وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ‘‘ (6:153) ۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمارے سامنے زمین پر ایک سیدھی لکیر کھینچی، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے۔ پھر آپ نے اس سیدھی لکیر کے دائیں اور بائیں کچھ لکیریں کھینچیں، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ متفرق راستے ہیں۔ ان متفرق رساتوں میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے۔ پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: ’’یہ ہے میرا سیدھا راستہ، تم اس کی پیروی کرو۔ اور تم متفرق راستوں کی پیروی نہ کرو، ورنہ تم بھٹک جاؤ گے‘۔ اس حدیث رسول کی وضاحت قرآن کی اس آیت سے ہوتی ہے : قل هذا سبیلی ادعوا إلى الله على بصيرة أنا ومن اتبعنى (12:108) یعنی کہو، یہ میرا راستہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے۔ مذکورہ حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کی سرگرمیوں کا اصل نشانہ دعوت الی اللہ ہے۔ ان کو اسی صراط مستقیم پر تا حیات چلتے رہنا ہے۔ اُن کی ذمے داری ہے کہ جس طرح پیغمبر نے دعوت الی اللہ کو اپنا مرکزی نشانہ بنایا اور اپنی ساری توانائی اسی پر صرف کردی، اسی طرح اہل ایمان کو چاہیے کہ پیغمبر اسلام کے بعد وہ دعوت الی اللہ کو اپنا مرکزی نشانہ بنائیں اور نسل در نسل اسی نشانہ پر قائم رہیں۔ مگر انسان کی زندگی موجودہ دنیا میں مسائل سے بھری ہوئی ہے۔ بار بار ایسے خلاف مزاج واقعات پیش آتے ہیں جو آدمی کو مشتعل کر دیں، اور اس کی توجہ کو اصل نشانے سے بھٹکا کر دوسری طرف
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues