سبیل اللہ سے انحراف
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۲
پھیر دیں۔ یہی وہ صورت حال ہے جو شیطان کو بار بار یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اہل ایمان کو بھڑکا کر انھیں انحرافی نشانوں کی طرف پھیر دے۔ وہ دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹ کر لوگوں کی طرف سے پیدا کردہ مسائل میں الجھ جائیں۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہیں۔ جب بھی وہ دیکھیں کہ کوئی پیش آمدہ صورت حال انھیں دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹا رہی ہے تو وہ اس کو شیطان کا بہکاو اسمجھیں، اور شیطان سے پناہ مانگتے ہوئے دوبارہ وہ دعوت الی اللہ کے راستے پر قائم ہو جائیں۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے سے یہ انحراف بہت بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو دوسری قوموں سے کچھ مادی اور سیاسی شکایتیں پیدا ہوئیں- مسلمان ان شکایتوں پر بھڑک اٹھے اور وہ دوسری قوموں سے لڑنے لگے۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان اس انحراف کا شکار ہو گئے۔ کچھ مسلمان دوسری قوموی کے خلاف منفی بولی بولنے لگے، اور کچھ مسلمان اُن سے باقاعدہ مسلح ٹکراؤ کرنے لگے- انھوں نے نہ صرف دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑ دیا، بلکہ انھوں نے مزید یہ کیا کہ اپنے مدعو کو اپنا حریف اور دشمن قرار دے دیا۔ اس طرح اُن کا انحراف اپنی آخری حد پر پہنچ گیا۔
یہ معاملہ جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا، وہ بلاشبہہ’سبیل سبیل اللہ سے کھلا ہوا انحراف تھا، وہ خدا کی مرضی کے مطابق نہ تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام مسلم رہنماؤں کی طویل قربانی کے باوجود اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، بلکہ برعکس طور پر وہ مسلمانوں کی ذلت اور ناکامی میں اضافے کا سبب بن گیا۔
موجودہ زمانے کے تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان اس پسپائی کا ذمے دار دوسری قوموں کو بتا کر اُن کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ یہ سرتاسر ایک بے نتیجہ کام ہے۔ مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی ان تحریکوں کو انحراف کی تحریکیں قرار دے کر انھیں ترک کردیں ۔ وہ دوبارہ دعوت الی اللہ کے مقرر راستے پر قائم ہو جائیں۔ مسلمانوں کے لیے اصلا یہ اصلاح خویش کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ دوسروں کو سازشی قرار دے کر ان کے خلاف منفی مہم چلانے کا معاملہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues