قرآن سے تعلق
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۴
قرآن سے تعلق
قرآن کے بارے میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عن أبي موسى عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: تعاهدوا القرآن، فو الذي نفسي بيده لهو أشد تفصيا من الإبل في عقلہا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5033) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قرآن کی حفاظت کرو، کیوں کہ قرآن اُس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جانے والا ہے جس طرح اونٹ اپنی رسی سے چھوٹ کر نکل جاتا ہے۔
اس حدیث میں قرآن کی حفاظت سے مراد اس کی لفظی حفاظت نہیں ہے، بلکہ اس کی معنوی حفاظت ہے۔ قرآن کے معانی، بہ الفاظ دیگر، قرآنی طرز فکر، ایک ایسی چیز ہے جو صرف اُس وقت آدمی کے ذہن کا حصہ بنتا ہے جب کہ آدمی اس مسلسل طور پر سوچے، جب کہ وہ اس کے تفکیری عمل (thinking process) کا مستقل جزء بنا ہوا ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قرآن بہت جلد فراموشی کے خانے میں چلا جائے گا۔ وہ آدمی کے زندہ حافظہ (living memory) میں باقی نہ رہے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زندگی میں آدمی ہر لمحہ مسائل حیات سے دوچار رہتا ہے۔ طرح طرح کے دنیوی تقاضے ہر لمحہ آدمی کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں۔ قرآن مکمل طور پر ایک کتاب آخرت ہے، جب کہ انسان مکمل طور پر ایک دنیوی مخلوق ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔
اس صورت حال میں کسی مومن کے لیے صاحب قرآن بننے کی صرف ایک شرط ہے، یہ کہ وہ اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking) کی صلاحیت پیدا کرے۔ وہ ایک غیر قرآنی دنیا میں قرآنی ذہن کے ساتھ رہ سکے۔ جب ایسا ہوگا کہ آدمی مسلسل طور پر قرآن کی آیتوں پر غور کرے گا تو وہ قرآن میں نئے نئے معانی کی دریافت کرے گا۔ اس طرح قرآن پر اس کا یقین بڑھتا چلا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues