Al-Risala · November 2014 · page 13

جہاد و قتال

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۳

جہاد و قتال

جہاد ایک عربی لفظ ہے۔ اس کے معنی وہی ہیں جس کو پرامن جدوجہد (peaceful struggle) کہا جاتا ہے۔ اس پر امن جدوجہد سے مراد اصلاً دعوتی جد و جہد ہے، جیسا کہ قرآن کی سورہ الفرقان میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدهم به جهاداً كبيرا (25:52) یعنی پرامن جدوجہد کے ذریعے لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچانا۔

دعوت اصلاً ایک نظریاتی جدوجہد (ideological struggle) ہے۔ یہ ایک بے حد وسیع کام ہے۔ اس کے مختلف تقاضے ہیں۔ دعوت کے کام کو جب اس کے تمام مطلوب تقاضوں کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کی جائے تو وہ ایک عظیم جدو جہد بن جاتا ہے۔ اسی لیے اس دعوتی عمل کو جہاد کہا گیا ہے۔

اصلاً جہاد کا مطلب یہی ہے۔ تاہم بعض اوقات اس کے تو سیعی مفہوم کے اعتبار سے، جہاد کے لفظ کو قتال (جنگ) کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یہ اُس کا صرف تو سیعی مفہوم ہے۔ جہاں تک احکام اور آداب کا تعلق ہے، جہاد اور قتال دونوں کے احکام اور آداب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ جہاد دعوت کا اصل نشانہ فریق ثانی کی سوچ کو بدلنا ہوتا ہے، جب کہ قتال کا نشانہ برعکس طور پر فریق ثانی کا استیصال کرنا ہے۔

جہاد اور قتال کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جہاد بمعنی دعوت ایک عمومی حکم ہے۔ دعوتی جہاد ہمیشہ اور ہر حال میں کرنا ہے۔ جہاد دعوت کا نشانہ اللہ کے پیغام کو اُس کے بندوں تک پہنچانا ہے۔ دعوت انسانی خیر خواہی پر مبنی ایک مثبت کام ہے جو ہر زمانے میں اور ہر نسل میں جاری رہتا ہے۔ اس کے برعکس، جہاد بہ معنی قتال ایک وقتی عمل ہے جو صرف اُس وقت کیا جاتا ہے جب کہ کوئی بیرونی ملک کسی مسلم ملک پر مسلح حملہ کردے۔ اس حملے کا مقابلہ کرنے کی ذمے داری افراد پر نہیں ہے، اس کی ذمے داری صرف منظم حکومت پر ہے جو حسب ضرورت اس کا انتظام کرتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues

Printed page