ایمان بالغیب
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۲
ایمان بالغیب
قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے : اَلَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ (2:3) یعنی ہدایت یاب لوگ وہ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہوں۔ غیب پر ایمان کا معاملہ سادہ طور پر صرف عقیدے کا معاملہ نہیں ہے، وہ براہ راست طور پر ہدایت کے معاملے سے جڑا ہوا ہے۔ جس آدمی کے اندر ایمان بالغیب کی صفت ہو، اُسی کو ہدایت ملے گی۔ جو آدمی ایمان بالغیب کی صفت سے محروم ہو، اس کو کبھی ہدایت ملنے والی نہیں۔ جب تمام حقیقتیں غیب میں ہوں تو اعلیٰ حقیقت کی دریافت کا معاملہ اس سلسلے میں استثنا (exception) نہیں ہو سکتا۔
غیب کا لفظ عربی زبان میں صرف غیر مشہود (unseen) کے معنی میں نہیں ہے۔ غیب کا لفظ ایسی چیز کے لیے بولا جاتا ہے جواگرچہ غیر مشہود ہو، مگر وہ غیر موجود نہ ہو، یعنی جب ایک چیز موجود ہوتے ہوئے دکھائی نہ دے تو اس کے لیے غیب کا لفظ بولا جائے گا۔ اللہ کا معاملہ یہی ہے۔ اللہ اگر چہ بہ ظاہر غیب میں ہے، مگر بہ اعتبار حقیقت، وہ تمام موجود چیزوں سے زیادہ موجود ہے۔ اس آیت میں ایمان بالغیب سے اصلاً ایمان بالله مراد ہے، مگر تَبَعاً اس میں وہ تمام متعلقاتِ ایمان شامل ہیں جن پر ایک مومن کے لیے ایمان لانا ضروری ہے۔ مثلاً وحی، ملائکہ، جنت اور جہنم، وغیرہ۔
اصل یہ ہے کہ ہم چیزوں کو دو طریقوں سے جانتے ہیں— ایک، مشاہدہ (observation)، اور دوسرا استنباط (inference)— سائنسی اعتبار سے، یہ دونوں طریقے یکساں طور پر معتبر ہیں۔ اعتباريت (validity) کے لحاظ سے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
موجودہ زمانے میں سائنس کو علمی مطالعے کا ایک معتبر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ سائنس کے دو حصے ہیں — ایک ہے، نظری سائنس (theoretical science)، اور دوسرا ہے، فنی سائنس (technical science)— سائنسی مطالعے کے مطابق، فنی سائنس کا دائرہ بہت محدود ہے۔ فنی سائنس کے ذریعے چیزوں کے صرف ظواہر (appearance) کو دیکھا جاسکتا ہے، لیکن تمام چیزیں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues