ایمان بالغیب
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۳
جو بہ ظاہر دکھائی دیتی ہیں، وہ اپنے آخری تجزیے میں غیر مرئی (unseen) ہوجاتی ہیں۔ مثلاً آپ پھول کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن پھول کی خوشبو کو آپ نہیں دیکھ سکتے۔ پھول کی خوشبو کو کسی خوردبین (microscope) یا دوربین (telescope) کے ذریعے دیکھنا ممکن نہیں۔ حالاں کہ جس طرح پھول کا وجود ہے، اسی طرح پھول کی خوشبو کا بھی وجود ہے۔
سائنسی مطالعے کے مطابق، تمام چیزیں آخر کار ایٹم کا مجموعہ ہیں، اور ایٹم اپنے آخری تجزیے میں الیکٹران (electron) کا مجموعہ ہے۔ ایک سائنس داں نے اس حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پوری کائنات ناقابلِ مشاہدہ الیکٹران کا مجنونانہ رقص (mad dance of electrons) ہے۔ ایک اور سائنس داں نے کائنات کی اسی غیر مرئی حیثیت کی بنا پر کائنات کو امکان کی لہروں (waves of probability) سے تعبیر کیا ہے۔
اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ صرف بہ ظاہر غیر مشہود خالق (Creator) ہی غیب میں نہیں ہے، بلکہ بہ ظاہر مشہود تخلیق (creature) بھی حالتِ غیب میں ہے۔ برٹش سائنس داں سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات: 1944) نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے، اس کتاب کا نام یہ ہے: Science and The Unseen World, by A. S. Eddington, Macmillan, 1929, pages 91 حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہم جن چیزوں کو دیکھتے ہیں، ہم اُن کے صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں، چیزوں کی اصل حقیقت ہمارے لیے پھر بھی غیر مشہود رہتی ہے۔ یہی معاملہ خدا کا ہے۔ خدا اپنی ذات کے اعتبار سے، بہ ظاہر غیر مشہود ہے، لیکن اپنی تخلیق کے اعتبار سے، خدا ہمارے لیے مشہود بن جاتا ہے۔ تخلیق کا موجود ہونا اپنے آپ میں خالق کے موجود ہونے کا ثبوت ہے۔ کائنات اتنی زیادہ با معنی (meaningful) ہے کہ خالق کو مانے بغیر اس کی توجیہہ سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اللہ رب العالمین کا حالتِ غیب میں ہونا ایک اعتبار سے امتحان (test) کی مصلحت کی بنا پر ہے۔ اللہ اگر عیاناً دکھائی دے تو امتحان کی مصلحت ختم ہو جائے گی۔ اللہ غیب میں ہے، اسی لیے اُس پر
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues