The business of America is business
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۹
دے سکتے ہوں تو آپ سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک ہر چیز خرید سکتے ہیں، اور اگر آپ پرائس دینے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو موجودہ زمانے میں آپ کو کوئی چیز ملنے والی نہیں۔ اس معاملے میں مغرب کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ۔ ایجنڈا کا تصور مسلم ذہن کی پیدا وار ہے۔ جہاں تک مغرب کا تعلق ہے، اُس کا کنسَرن صرف یہ ہے کہ وہ دنیا سے تیل اور خام اشیاء حاصل کرے اور پھر اپنا پروڈکٹ تیار کر کے اس کو ساری دنیا میں مہنگے داموں میں فروخت کرے۔
’’ایجنڈا‘‘ کا تصور تمام تر مسلم ذہن کی پیدا وار ہے جو کہ اپنے تعصبات کی بنا پر مغرب سے کامل طور پر بے خبر ہیں۔ اس بے خبری کے نتیجے میں مسلمانوں کو صرف ایک چیز ملی ہے، اور وہ ہے مغرب سے بے بنیاد نفرت، اس کے سوا جدید دور سے کوئی بھی مثبت چیز مسلمان حاصل نہ کر سکے۔ اس صورت حال کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس صرف ایک لفظ ہے اور وہ ہے ۔ فکری دیوالیہ پن (intellectual bankruptcy)۔
مسلم علما اور دانش وروں کا یہ فکری دیوالیہ پن بہت قدیم ہے۔ اس سے پہلے جب نو آبادیات کا دور آیا تو تمام علما اور مسلم دانش وروں نے اِس کو اسی منفی معنی میں لیا اور غیر ضروری طور پر وہ اس کے خلاف نفرت کلچر اور تشدد کلچر میں مبتلا ہو گئے۔ حالاں کہ نو آبادیاتی قومیں جو اپنے علاقے سے نکل کر ایشیا اور افریقہ میں داخل ہوئی تھیں، اُن کا مقصد اصلاً اپنی صنعتی پیداوار کے لیے بازار (market) حاصل کرنا تھا۔ دوسری چیزیں جو اُن کے ساتھ آئیں، وہ نو آبادیاتی نظام کا اضافی حصہ تھیں، نہ کہ حقیقی حصہ۔
اس سنگین بے خبری کا نہایت مہلک انجام ہوا۔ اولاً یہ کہ اپنے منفی ذہن کی بنا پر مسلمان مغربی تہذیب سے کچھ سیکھنے سے محروم رہے۔ دوسرا شدید تر نقصان یہ تھا کہ مغربی قوموں کو انھوں نے دشمن کے خانے میں ڈال دیا، وہ ان کو مدعوسجھنے سے قاصر رہے۔ اس بنا پر وہ مغربی قوموں کے اوپر اپنی داعیانہ ذمے داری کو ادا نہ کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues