دور جدید کا مسئلہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۰
دور جدید کا مسئلہ
دور جدید (modern age) کا ظہور اچانک نہیں ہوا۔ دور جدید در اصل ایک لمبے تاریخی عمل (historical process) کا نقطہ انتہا (culmination) تھا۔ یہ تاریخی عمل ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ جدید دور ہی کو دوسرے الفاظ میں، جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے جدید تہذیب ایک موافق اسلام تہذیب تھی، نہ کہ مخالف اسلام تہذیب۔
جدید تہذیب کے موافق اسلام ہونے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کے تمام اجزا اپنی تمام تفصیل کے ساتھ عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جب بھی کوئی انقلاب آتا ہے تو وہ اس طرح نہیں آتا کہ انسانی آزادی (human freedom) کو مکمل طور پر حذف کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انقلاب معیاری انقلاب نہیں ہوتا۔ انقلاب کی قدر و قیمت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اس کے کچھ اجزا حقیقی ہوتے ہیں اور کچھ اجزا وہ ہوتے ہیں جو انسانی آزادی کی بنا پر اس کے اندر شامل ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے میں اسلامی انقلاب کا بھی کوئی استثناء (exception) نہیں۔ ساتویں اور آٹھویں صدی میں جو اسلامی انقلاب آیا، اس نے تاریخ انسانی کو بہت سے قیمتی تحفے دئے۔ مثلاً شرک کے دور کو ختم کر کے توحید کے دور کو دنیا میں لانا۔ تاہم اسلامی انقلاب میں بھی زمانی اسباب کے تحت ایسے اجزا شامل ہو گئے جو معیار مطلوب کے مطابق نہ تھے۔ مثلاً شورائی خلافت کی جگہ خاندانی حکمرانی (dynasty) کا قائم ہو جانا۔ اسلام کے نام پر باہمی لڑائیاں، وغیرہ۔ اسلام کا ظہور بلاشبہ تاریخ بشری کے لیے ایک نعمت کا ظہور تھا۔ لیکن اس نعمت کو حقیقی طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی تاریخ کو اُن اجزا سے الگ کر کے دیکھا جائے جو خدا داد انسانی آزادی کی بنا پر اس کے اندر شامل ہو گئے۔ ٹھیک یہی معاملہ جدید مغربی تہذیب کا بھی ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے انسانی تاریخ کو
‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues