Al-Risala · November 2014 · page 27

إذا كان الغراب رئيس قوم سيهديهم إلى دار البوار

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۷

ہے کہ کارنامے کے معاملے میں کسی شخصیت کا حصہ ہمیشہ پچاس فی صد سے کم ہوتا ہے اور حالات کا حصہ ہمیشہ پچاس فی صد سے زیادہ۔

موجودہ زمانے کے مسلم مقررین اور محررین کی یہ عام غلطی ہے کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کا تصور ان کے حقیقی قد سے زیادہ (larger than life size) قائم کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ شخصیتیں دوبارہ پیدا ہو جائیں تو موجودہ زمانے میں بھی وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہیں۔ مگر اس قسم کا تصور مبالغہ آمیز خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ قدیم روایتی دور (ancient traditional age)، اور جدید سائنسی دور (modern scientific age)۔ دونوں دوروں میں ہر اعتبار سے نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ قدیم زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا شخص اگر آج پیدا ہو تو وہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔ ایسا آدمی آج کے حالات میں صرف بے جوڑ (misfit) ہو کر رہ جائے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کام کرنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ کام کرنے والے لوگ جدید دور کا گہرا مطالعہ کریں۔ وہ اپنے آپ کو جدید حالات کے اعتبار سے تیار کریں۔ وہ کامل معنوں میں بصیر زمانہ (بصیر أب زمانہ) بنیں۔ اس کے بعد ہی وہ آج کے دور میں کوئی حقیقی کام انجام دے سکتے ہیں، خواہ تعلیم و تدریس کا معاملہ ہو یا تصنیف و تالیف کا معاملہ، خواہ ایک ادارہ چلانے کا معاملہ ہو یا حکومت چلانے کا معاملہ، امت کی اصلاح کا معاملہ ہو یا زمانے کی قیادت کا معاملہ، کسی سیمنار کو خطاب کرنے کا معاملہ ہو یا کسی انٹرنیشنل تنظیم کو خطاب کرنے کا معاملہ۔ غرض زندگی کا جو معاملہ بھی ہو، اس میں رہنمائی کرنے کے لیے دورِ جدید سے کامل واقفیت لازمی طور پر ضروری ہے۔ جو لوگ یہ واقفیت نہ رکھتے ہوں، وہ اگر جدید دور میں رہنمائی کا منصب سنبھالیں تو اُن کا انجام وہی ہوگا جس کو ایک شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے:

إذا كان الغراب رئيس قوم سيهديهم إلى دار البوار

‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues

Printed page