Al-Risala · November 2014 · page 26

فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۶

وہ بصیرت زمانہ سے بالکل بے خبر تھے۔ اس کی ایک مثال فلسطینی لیڈر یاسر عرفات (وفات: 2004) کی ہے۔ فطری صلاحیت کے اعتبار سے وہ گویا صلاح الدین ثانی تھے، مگر ساری قربانیوں کے باوجود وہ مکمل طور پر نا کام رہے۔

اسی طرح کی ایک مثال ڈاکٹر محمد اقبال کی ہے۔ انھوں نے شیخ احمد سرہندی کے بارے میں نہایت مبالغہ آمیز تصور قائم کر رکھا تھا۔ چناں چہ انھوں نے لکھا ہے کہ مسلم ہندستان نے سب سے بڑا جو مذہبی عبقری پیدا کیا، شیخ احمد سرہندی تھے:

The greatest religious genius produced by Muslim India was Shaikh Ahmad Sarhindi. شیخ احمد سرہندی جیسی شخصیت تخلیق کے کارخانے میں بار بار پیدا ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ مولد تخلیق کے کارخانے میں ختم ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پر فطری صلاحیت کے اعتبار سے مولانا ابوالکلام آزاد اسی درجے کی شخصیت تھے جس درجے کی شخصیت شیخ احمد سرہندی کی تھی۔ لیکن مولانا آزاد کوئی نتیجہ خیز کام نہ کر سکے۔ اس کا سبب دونوں کے درمیان زمانی حالات کا فرق تھا۔ مشہور مسلم دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات: 2010) نے اپنے ایک مقالہ میں عہد ماضی کی مسلم شخصیتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”اس نظام تعلیم میں نواب سعد اللہ خاں بھی تیار ہوا جو مجدد الف ثانی کا کلاس فیلو تھا اور جو سلطنت مغلیہ کا وزیر اعظم بنا۔ وہ سلطنت مغلیہ جو موجودہ افغانستان، پاکستان، ہندستان، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، سکم، برما، ان سب ریاستوں پر مشتمل تھی۔ اس کے نظام کو سعد اللہ خاں نے شاہ جہاں کے زمانے میں کامیابی کے ساتھ چلایا تھا۔ ‘‘ (ماہ نامہ الشریعہ، پاکستان، مارچ 2005، صفحہ: 14)

سعد اللہ خاں کوئی منفرد شخصیت نہیں تھے۔ اس طرح کی شخصیتیں قدرت کے کارخانے میں بار بار پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی اپنی فطری صلاحیت کے اعتبار سے کسی بھی درجے میں کم نہ تھے۔ لیکن غیر معمولی سرگرمیوں کے باوجود وہ کوئی نتیجہ خیز کام نہ کر سکے۔ حقیقت یہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2014 All issues

Printed page