Al-Risala · February 2014 · page 5

کلام میں وضوح

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۵

کلام میں وضوح

تقریر یا تحریر کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اندر وضوح (clarity) ہو، یعنی اُس کو سننے یا پڑھنے کے بعد مقرر یا محرر کا مدعا بلا اشتباہ سمجھ میں آجائے- کلام کا وضوح یہ ہے کہ اُس کے اندر کنفیوژن (confusion) نہ ہو، جو بہ آسانی قابل فہم (easily understandable) ہو۔

دنیا میں جو چیزیں ہیں، وہ سب ملی ہوئی حالت میں ہیں، مادی چیزیں بھی اور تصورات (ideas) بھی۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ مادی چیزوں کو فطرت نے خود اپنی طرف سے الگ الگ کر رکھا ہے، مگر تصورات کے معاملے میں الگ الگ کرنے کا کام انسان کو خود کرنا ہوتا ہے۔ سائنس میں چیزیں اپنے آپ ممیز ہو جاتی ہیں، جب کہ انسانیات (humanities) میں چیزوں کو غور و فكر کے ذریعے ممیز کرنا ہوتا ہے۔ سائنس سے مراد علوم طبیعی (physical sciences) ہیں۔ اور انسانیات سے مراد وہ علوم ہیں جن کا تعلق انسان سے ہے، مثلاً مذہب، روحانیت، سماجی علوم، وغیرہ۔ یہ ایک عام تجربہ ہے کہ جب ایک شخص سائنس کا کوئی مسئلہ بیان کرتا ہے تو اُس میں وضوح (clarity) موجود ہوتا ہے۔ لیکن جب ایک شخص کوئی ایسا مسئلہ بیان کرتا ہے جس کا تعلق انسانیات سے ہو، تو اس میں وضوح موجود نہیں ہوتا۔ یہاں ہر شخص کی تحریر میں کنفیوژن پیدا ہو جاتا ہے، خواہ وہ مذہبی موضوعات پر کلام کرنے والے لوگ ہوں یا سیکولر موضوعات پر کلام کرنے والے لوگ۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ سائنسی موضوعات میں چیزیں خود فطرت کے نظام کے تحت الگ الگ ہوتی ہیں، اس لیے آدمی تعین کے ساتھ اُن چیزوں کو ممیز کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

مثلاً دودھ میں کثرت سے بیکٹیریا شامل رہتے ہیں۔ بظاہر خالی آنکھ سے وہ دکھائی نہیں دیتے، لیکن جب دودھ کے ایک قطرہ کو خوردبین (microscope) کے شیشے کے نیچے رکھا جائے تو صاف طور پر نظر آتا ہے کہ دودھ کے اندر بے شمار تعداد میں بیکٹیریا موجود ہیں۔ اسی طرح ہماری قریبی کہکشاں (milky way) بظاہر خالی آنکھ سے دیکھنے میں سفید دھاری کے مانند نظر آتی ہے، لیکن

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page