Al-Risala · February 2014 · page 6

کلام میں وضوح

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۶

جب اُس کو دور بین (telescope) کے شیشے کے ذریعے دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ یہ بے شمار الگ الگ ستارے ہیں جو دوری کی بنا پر باہم ملے ہوئے نظر آتے ہیں۔

تصورات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ تصورات انسان کے ذہن میں ہمیشہ مخلوط (mixture) صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ انسانی ذہن ہمیشہ مختلف موضوعات سے متعلق تصورات کا ایک جنگل بنا ہوا ہوتا ہے۔ جب کوئی انسان کسی موضوع پر کلام کرتا ہے تو اس کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ مختلف تصورات کو سارٹ آؤٹ کرکے اپنے نقطہ نظر کو ممیز صورت میں پیش کر سکے۔ اس عمل میں فطرت مدد نہیں کرتی۔ یہ کام آدمی کو خود اپنے قوت تجزیہ (power of analysis) کے ذریعے کرنا ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر اگر تجزیہ کی اعلیٰ صلاحیت موجود نہ ہو تو یقینی طور پر اس کے کلام میں کنفیوژن پیدا ہو جائے گا، اُس کا کلام وضوح (clarity) کی صفت سے خالی ہوگا۔ مثال کے طور پر اسلام کا موضوع مدرسے میں بھی پڑھایا جاتا ہے اور یونی ورسٹی میں بھی، مگر دونوں کے درمیان ایک واضح فرق ہے۔ مدرسے کے نصاب میں اسلام کی تعلیم بطور عقیدہ (belief) شامل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، یونی ورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز (Islamic studies) کا نصاب ایک تاریخی ظاہر ہ (historical phenomenon) کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ جو شخص مدرسہ ایجوکیشن اور یونی ورسٹی ایجوکیشن کے اس فرق کو نہ سمجھے، وہ جب اس موضوع پر کلام کرے گا تو اس کے کلام میں کنفیوژن پیدا ہو جائے گا۔ یہی معاملہ آزادی اظہارِ خیال (freedom of expression) کا ہے۔ اس معاملے میں مشرقی اور مغربی تصور کے درمیان فرق ہے۔ اب اگر مشرقی تصور کو لے کر کوئی شخص اس موضوع پر کلام کرے تو اپنے تصور کی بنا پر وہ یہ کرے گا کہ وہ آزادی اظہارِ خیال کے ایک واقعے کو اسلام دشمنی پر محمول کرے گا اور اس طرح اس کے کلام میں کنفیوژن پیدا ہو جائے گا۔ انسانی تصورات کے موضوع پر جو شخص اظہارِ خیال کرے، اس کا کلام کنفیوژن سے کس طرح پاک ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی تصورات کے معاملے میں خود انسان کو وہ کام کرنا پڑتا ہے جو مادی موضوعات میں فطرت کی طرف سے انجام دیا جاتا ہے، یعنی تصورات کے موضوع پر کلام کرنے والا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page