فطرت کا عطیہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۱۰
فطرت کا عطیہ
ایک حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کو اللہ کے سامنے 4 سوالوں کے جواب دینے ہوں گے: لا تزول قدم ابن آدم يوم القيامة من عند ربه حتی يسئل عن خمس (قیامت کے دن انسان کے قدم اس کے رب کے سامنے سے اس وقت تک نہ ہٹیں گے جب تک کہ وہ پانچ باتوں کا جواب نہ دے لے) ان پانچ باتوں میں سے ایک یہ ہے: عن شبابه فيما ابلاه (الترمذي، رقم الحدیث: 2416) جوانی کس چیز پر گزاری۔
بظاہر اس حدیث میں یہ ہے کہ اپنی جوانی کیسے گزاری۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اس کو تخلیق کے اعتبار سے جو خاص صلاحیت عطا کی اس کو کہاں استعمال کیا۔ ہر عورت یا مرد جو پیدا ہو کر اس زمین پر آتا ہے، وہ اپنے اندر ایک خاص صلاحیت (unique quality) لے کر آتا ہے، خالق کو یہ مطلوب ہے کہ ہر ایک اپنی اس صلاحیت کو دریافت کرے، اور اس صلاحیت کو خدائی نقشہ کے مطابق بھر پور طور پر استعمال کرے۔ جو عورت یا مرد ایسا نہ کرے وہ یقینی طور پر آخرت میں اللہ کے یہاں پکڑے جائیں گے۔ آخرت میں ہر ایک کا معاملہ اس بنیاد پر ہوگا کہ اس نے اپنی خدا داد صلاحیت (God given quality) کو صحیح طور پر استعمال کیا یا نہیں۔ جو انسان اس زمین پر پیدا ہوتا ہے، اُس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت کرے۔ وہ اس دنیا میں اپنے رول کو سمجھے، اور اللہ کی ہدایت کے مطابق، اپنے اس رول (کردار) کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کرے ۔ جو شخص ایسا کرے، اُس کے لیے موت کے بعد آنے والی دنیا میں ابدی جنت ہے، اور جو شخص ایسا نہ کرے، اُس کے لیے دنیا میں بھی ناکامی ہے، اور آخرت میں بھی ناکامی۔ جس شخص نے اپنے لیے فطرت کے عطیے کو جانا، وہ ایک کامیاب انسان ہے۔ اس کے برعکس جس شخص نے اپنے بارے میں فطرت کے عطیہ کو نہیں جانا، وہ خالق کے نزدیک اندھا بہرا ہے۔ ایسے عورت یا مرد کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues