Al-Risala · December 2014 · page 9

اصحابِ رسول کا نمونہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۹

ہوتا ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ اصحابِ رسول کامیاب تھے، اور موجودہ زمانے کے مسلمان ناکام ہیں۔ کیوں ایسا ہوا کہ اصحابِ رسول پر اللہ کی نصرت نازل ہوئی ۔ جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کوششیں کرتے ہیں لیکن ان کی کوششیں نتیجہ خیز نہیں ہوتیں، وہ جان و مال کی قربانی دیتے ہیں لیکن ان کی قربانیاں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔ وہ مسجدوں میں اور بڑے بڑے جلسوں میں دعائیں کرتے ہیں لیکن ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ۔ وہ خیر امت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن عملی صورت حال کے اعتبار سے ان کی حالت اس کے برعکس ہے۔

امام مالک بن انس (وفات: 795ء) کا ایک بامعنی قول ان الفاظ میں آیا ہے: لن يصلح آخر هذه الأمة، إلا بما صلح به أولها (احکام الجنائز للألباني: 198) یعنی امت مسلمہ کے آخری گروہ کے حالات بھی صرف اسی طرح درست ہوں گے جس طرح امت کے ابتدائی گروہ کے حالات درست ہوئے تھے۔

یہی اس معاملہ میں اصل رہنما اصول ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو امام مالک ابن انس کے اس قول کو اپنا رہنما بنانا ہو گا ۔ اس کے سوا کوئی دوسری تدبیر اُن کے کام آنے والی نہیں۔ خواہ یہ تدبیریں کتنی ہی زیادہ مقدار میں کی جائیں۔ پر شور اخباری بیانات، جلسہ جلوس کے ہنگامے، بد دعاؤں اور قنوت نازلہ کا اہتمام، سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر نفرت اور غصہ کی دھوم مچانا، اور سوسائڈ بامبنگ (suicide bombing) کے ذریعہ اپنے آپ کو ہلاک کرنا، مفروضہ مسلم دشمن تاجروں کا بائیکاٹ، یرغمال (hostage) بنانے کا طریقہ، وغیرہ۔ ان طریقوں کو اختیار کرنے سے نہ اب تک کچھ ہوا ہے، اور نہ آئندہ کچھ ہونے والا ہے۔

یہ تمام طریقے صرف اپنے غصہ کا اظہار ہیں۔ اور اس دنیا میں غصے کے اظہار سے کبھی کسی کو کچھ نہیں ملتا۔ مطلوب نتیجہ صرف درست منصوبہ بندی کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے، نہ کہ نفرت اور غصہ کا اظہار کرنے سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page