Al-Risala · December 2014 · page 22

پیغمبر کا اُسوہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۲

پیغمبر کا اُسوہ

قرآن کی سورہ نمبر 12 میں حضرت یوسف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس قصے کو قرآن میں احسن القصص (یوسف: 2) کہا گیا ہے۔ اس قصے کے احسن القصص ہونے کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں، لیکن اُس کا ایک پہلو، حضرت یوسف کا وہ طریق کار ہے جو انھوں نے بادشاہ وقت کے معاملے میں اختیار کیا۔

اس طریق معاملہ کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ بادشاہ مصر نے حضرت یوسف کی شخصی صلاحیت سے متاثر ہو کر اُن سے کہا کہ تم کو میری سلطنت کے خزائن پر اختیار ہوگا، تاہم جہاں تک ملک کے قانونی نظام کا تعلق ہے، اُس میں حسبِ سابق، بادشاہ کا قانون جاری رہے گا۔ اس بات کو بائبل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

"اور فرعون (شاہ مصر) نے یوسف سے کہا: چوں کہ خدا نے تجھے یہ سب کچھ سمجھا دیا ہے، اِس لیے تیری مانند دانشور اور عقل مند کوئی نہیں۔ سو، تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی ۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا۔ " (پیدائش 40-39: 41)

حضرت یوسف کے زمانے میں مصر کا جو بادشاہ تھا، وہ منفعِل مزاج کا آدمی تھا۔ عام بادشاہوں کی طرح وہ جارحانہ مزاج کا انسان نہ تھا۔ چناں چہ وہ راضی ہو گیا کہ تخت کا مالک وہ رہے، لیکن امور سلطنت کو حضرت یوسف انجام دیں۔ حضرت یوسف نے بادشاہ کی اس پیش کش کو قبول کر لیا۔ بادشاہ کے برائے نام اقتدار کے تحت، وہ اپنا پیغمبرانہ مشن چلاتے رہے۔ قرآن کے مطابق، ہر پیغمبر کا عمل ہمارے لیے یکساں طور پر درست نمونہ ہے۔ (الأنعام: 90) اس بنا پر حضرت یوسف کا نمونہ بھی ہمارے لیے اتنا ہی قابلِ اتباع ہے، جتنا کہ پیغمبر اسلام یا اور کوئی پیغمبر کا نمونہ۔ یہ نمونہ اس اصول پر مبنی ہے کہ اگر سیاسی حاکم اصل مشن میں کوئی رکاوٹ نہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page