فریکونسی کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۱
فریکونسی کا مسئلہ
اگر آپ کے پاس ریڈیو سیٹ تو ہو، لیکن ریڈیو اسٹیشن سے جس فریکونسی (frequency) پر پیغام نشر ہو رہا ہے، آپ کا ریڈیو سیٹ اس فریکونسی (frequency) پر کام نہ کرتا ہو تو آپ کے لئے وہ سیٹ بے کار ہے۔ جب تک آپ اپنے ریڈیو سیٹ کو مطلوبہ فریقونسی (frequency) پر نہیں لائیں گے، آپ ریڈیو اسٹیشن کی نشریات سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ (ماہ نامہ الشریعہ، پاکستان، مارچ 2005)
یہی معاملہ ربانی نشریات کا ہے۔ اس دنیا میں ہر لمحہ ربانی پیغام نشر ہو رہا ہے، ہر لمحہ یہ خاموش آواز آرہی ہے کہ کیا کوئی سننے والا ہے جو سنے، کیا کوئی نصیحت لینے والا ہے جو نصیحت لے۔ اگر آپ کا ذہن پہلے سے ان ربانی نشریات کو اخذ کرنے کے لیے تیار ہو تو آپ کا ذہن ان ربانی نشریات کو قبول کرے گا، اور اگر آپ کا ذہن تیار نہ ہو تو ربانی نشریات آئیں گی، اور آپ کے پاس سے گزر جائیں گی، لیکن آپ اس کو اخذ کرنے سے محروم رہیں گے۔
اس دنیا میں ہر آدمی کو اپنے آپ کو شعوری طور پر تیار کرنا ہے۔ ہر آدمی کو ربانی نشریات کے لیے آخذ (recipient) بننا ہے۔ دنیا میں روحانی ترقی کا یہی واحد ذریعہ ہے۔ اسی سے انسان کے اندر وہ شخصیت بنتی ہے، جس کو مزکی شخصیت (purified personality) کہا گیا ہے۔ جس آدمی کے اندر ربانی نشریات کو اخذ کرنے کا یہ مادہ نہ ہو، وہ کبھی روحانی اعتبار سے ترقی نہیں کر سکتا۔ قرآن میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّاسَمْعَهُمْ (الانفال: 23) اور اگر اللہ ان میں خیر کو جانتا تو وہ ضرور ان کو سناتا۔ یہاں جو بات متعدی کے صیغے (transitive form) میں کہی گئی ہے، وہ لازم کے صیغے (intransitive form) میں مطلوب ہے، یعنی اگر ان کے اندر صلاحیت ہوتی تو وہ ضرور ہدایت کو پا لیتے ۔ گویا کہ یہ مسئلہ فقدان صلاحیت کا ہے، نہ کہ فقدان ہدایت کا۔ (20 جون 2014)
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues