Al-Risala · December 2014 · page 24

الرسالمشن کا دوسرا دور

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۴

الرسالمشن کا دوسرا دور

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کا آغاز مکہ میں کیا۔ تیرہ سال کے بعد آپ نے مکہ سے ہجرت کیا اور مدینہ میں قیام فرمایا۔ جب آپ مدینہ کی سرحد پر پہنچے، اس وقت اہل مدینہ کے ایک گروہ نے آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا۔ اس وقت آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر بھی تھے۔ دونوں کو خطاب کرتے ہوئے اہل مدینہ نے کہا: أدخلا آمنين مطاعين (مسند احمد، رقم الحدیث: 12234) یعنی آپ دونوں مدینہ میں داخل ہو جائیں، آپ دونوں کے لیے یہاں امن ہے، اور آپ دونوں ہمارے لیے قابل اتباع ہیں۔

مدینہ میں اس حیثیت سے آپ کا استقبال کیوں کر ممکن ہوا ۔ وہ قبل از ہجرت عمل کی بنا پر ممکن ہوا تھا۔ ہجرت سے پہلے کچھ اصحاب مدینہ گئے، وہاں وہ لوگوں کے سامنے قرآن کی دعوت پیش کرتے رہے۔ اس وقت مطبوعہ قرآن موجود نہ تھا، اس لئے وہ اپنے حافظہ سے لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے رہے۔ اس بنا پر وہ وہاں مقری کہے جاتے تھے۔ یہ گویا ہجرت سے پہلے ابتدائی تیاری کا معاملہ تھا۔ اس ابتدائی تیاری کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مدینہ میں اسلام گھر گھر میں داخل ہو گیا ۔ جیسا کہ روایت میں آیا ہے: لم تبق دار من دور الأنصار إلا وفيها ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم (السيرة النبوية لابن كثير: 2/179) یعنی مدینہ کے گھروں میں سے کوئی گھر نہ بچا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چر چا نہ ہو رہا ہو۔

یہ معاملہ جو مدینہ میں پیش آیا، وہ بھی رسول اور اصحاب رسول کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ کوئی دعوتی مشن اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے، جب کہ اس کے افراد اس سنت پر منظم انداز میں عمل کریں۔ وہ مشن سے پہلے قبل مشن (pre-mission) کی اہمیت کو سمجھیں، اور اس پر عمل کریں۔ یہ عمل صرف اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ وہ پر امن ہو اور اس کو مکمل طور پر لو پروفائل (low profile) کے انداز میں انجام دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page