الرسالمشن کا دوسرا دور
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۵
اللہ کے فضل سے الرساله مشن کے ساتھ ایسے ہی معاملہ پیش آیا۔ اسلامی مرکز 1970 میں قائم ہوا۔ اس کے بعد ماہ نامہ الرسالہ 1976 میں جاری ہوا۔ اس طرح یہ دعوتی مشن تقریباً چالیس سال تک برابر چلتا رہا۔ اس کے بعد اس کے معاون کے طور پر الرسالہ انگریزی، فروری 1984 میں جاری ہوا جو کہ اب ماہ نامہ اسپرٹ آف اسلام کی صورت میں بنگلور سے نکل رہا ہے۔ اس درمیان دوسرے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ بھی بقدر امکان کام ہو تا رہا۔
یہ گویا ابتدائی تیاری کا عمل تھا، جو تقریبا چالیس سال تک جاری رہا۔ اس مسلسل کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ہر جگہ ایسے لوگ قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں، جو پابندی کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ نیز انھوں نے الرسالہ مشن کے تحت شائع ہونے والی کتابوں کو بھی وسیع پیمانے پر پڑھا ہے۔ ایسے افراد اور ایسے حلقے نہ صرف انڈیا میں، بلکہ مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر ایسے لوگ وسیع پیمانے پر متحرک ہو گئے ہیں۔ وہ ہر جگہ مختلف طریقوں سے اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ کام کسی مرکزی ہدایت یا کنٹرول کے بغیر خود اپنے جذبہ (spirit) کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہر جگہ بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو لأجل الله (for the sake of God) اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ وہ جدید حالات کے لحاظ سے نئے طریقوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ کام انتہائی حد تک غیر سیاسی (non-political) انداز میں انجام دیا جا رہا ہے۔
یہ گویا مذکورہ سنت رسول کا احیاء ہے۔ دونوں کے درمیان اگر فرق ہے تو وہ صرف ظاہر کے اعتبار سے ہے، نہ کہ اسپرٹ کے اعتبار سے۔ اس سنت پر عمل، قدیم زمانے میں اُس وقت کے حالات کے مطابق کیا گیا تھا۔ موجودہ زمانے میں اِس سنت پر عمل، جدید حالات کے اعتبار سے انجام پا رہا ہے۔ اس سنت پر عمل کا نتیجہ پہلے قدیم حالات کے اعتبار سے ظاہر ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں اس سنت پر عمل کا نتیجہ جدید حالات کے اعتبار سے پیش آرہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues