امست مسلمہ کا کیس
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۲۶
امست مسلمہ کا کیس
ڈاکٹر محمد احمد خان، (مقام: (2010ء) 2 جنوری، 2005ء) کہا کہ ریکا اس تہ کا ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات : 2010) نے 2 جنوری 2005 کو ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا اہتمام الشریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ (پاکستان) نے کیا تھا۔ اس تقریر کا عنوان یہ تھا: مغرب کا فکری و تہذیبی چیلنج اور علماء کی ذمہ داریاں“۔ یہ تقریر 22 صفحات پر مشتمل ہے۔ تقریر کا آخری پیراگراف یہ ہے: ں ریات میں رہ رھایں یہ ریل کے مات پر ہے)
اپنی اس تلخ نوائی کو میں ایک فارسی شعر پر ختم کرتا ہوں، فارسی کا شعر ہے :
نوائے من ازاں پر سوز و بے باک و غم انگیز است کہ خاشاکم در شعله افتاد و بادِ صبح دم تیز است لعز م رس تلخ رت ک ر آنا آناک آگ گ یعنی میں اس لیے تلخ باتیں کر رہا ہوں کہ میرے آشیانے کو آگ لگ گئی ہے، اور ہوا تیز ہے اور مجھے جلدی بچانے کی ضرورت ہے۔ - امر واقعہ یہی ہے کہ آشیانے کو آگ لگ چکی ہے اور باد صبح دم تیز ہے۔ آشیانہ جل جانے کا خطرہ ہے اور بہت جلد اس کو بچانے کی ضرورت ہے۔ " (ماہ نامہ الشریعہ، مارچ 2005) موجودہ زمانے کے تمام علماء اور مسلم رہنما اِسی قسم کی منفی بات کرتے ہیں۔ ہر ایک کو امت محمدی کا "آشیانہ" جلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ طرزِ فکر یقینی طور پر غیر اسلامی ہے، کیوں کہ وہ اُسوۂ محمدی کے خلاف ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ ہے۔ جب آپ کی بعثّت ہوئی تو مکہ پر مشرکین کا قبضہ تھا۔ کعبہ کو عملاً بت خانہ بنا دیا گیا تھا۔ مدینہ پر یہودیوں کا دبدبہ قائم تھا۔ جزیرہ نمائے عرب کے اطراف میں بازنطینی حکومت اور ساسانی حکومت قائم تھی جو کھلے طور پر اسلام کی حریف (rival) بنی ہوئی تھی۔ اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک دعوتی مکتوب ایک صحابی کے ذریعے ایران کے حکمراں کسریٰ کے پاس بھیجا۔ اس نے آپ کے مکتوب کو پھاڑ کر پھینک دیا اور کہا: يكتب إلي بهذا وهو عبدي (البداية والنهاية: 4/307) یعنی وہ میرے پاس ایسا خط بھیجتا ہے، حالاں کہ وہ میرا غلام ہے۔ یہ حالات اُن حالات سے ہزاروں گنا زیادہ شدید تھے جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو پیش آرہے ہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اُن کو لے کر منفی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ ایسی حالت میں مسلم رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں، نہ کہ وہ دوسروں کے خلاف احتجاج کریں۔ ان میں سے ایک ہے؟ انداروں رہا ہے! یہی مدعا ہیں ان درباروں کو
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues