پیغمبر متبع قرآن
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۰
پیغمبر متبع قرآن
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا کلام لفظی طور پر پیغمبر کے اوپر اترا۔ اسی کے ساتھ پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا کہ تم خود سب سے پہلے اُس کے پیرو بنو (ال انعام: 14)۔ فرمایا کہ اتبع ما أوحي إليك من ربك (ال انعام: 106) یعنی تم اُس چیز کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جارہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ قرآن کا لفظی ریکارڈ تو مصحف کی صورت میں موجود ہے۔ دوسری چیز یعنی پیغمبر کا اتباع قرآن، اُس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ جیسا کہ معلوم ہے، خود قرآن میں پیغمبر کے اتباع قرآن کا ریکارڈ نہیں۔ پھر یہ ریکارڈ کہاں ہے۔ یہ ریکارڈ واضح طور پر احادیث کے اُس ذخیرہ میں ہے، جس کو سنت رسول کہا جاتا ہے، اور جس کو قرآن میں اُسوہ رسول (الاحزاب: 21) بتایا گیا ہے۔ قرآن، دین الہی کے نظریاتی حصہ کی وضاحت ہے۔ لیکن قرآن صرف ایک نظریہ کی کتاب نہیں۔ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ اے لوگو، قرآن کی اتباع کرو۔ اتباع کرنے کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ اُس کا ایک عملی نمونہ (role model) موجود ہو۔ تمام قرائن کے مطابق، یہ عملی نمونہ وہی ہے جو رسول کی سنت کی شکل میں حدیث کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ سنت رسول کے سوا، کوئی اور چیز تعلیمات قرآن کے لیے عملی ماڈل نہیں بن سکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ نے اپنا کلام اتارا، تو عین اُس کے فطری تقاضے کے مطابق ضروری تھا کہ اُس کا ایک عملی ماڈل بھی موجود ہو۔ عملی ماڈل کے بغیر قرآن کی حیثیت ایک مجرد نظریاتی کتاب کی ہو جائے گی۔ اُس کی حیثیت انسان کے لیے ایک رہنما کتاب (گائڈ بک ) کی نہ ہوگی۔ حالانکہ اگر ایسا ہو کہ قرآن مجرد معنوں میں صرف ایک نظریاتی کتاب ہو، انسان کے لیے یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو کہ مستند طور پر اُس کی انطباقی صورت (applied version) کہاں ہے، تو ایسی حالت میں قرآن اُس کے لیے عملاً ایک گائڈ بک نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues