Al-Risala · December 2014 · page 31

غلبہ، اہلِ حق کے لیے

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۱

غلبہ، اہلِ حق کے لیے

حضرت موسیٰ کے زمانے میں، جب بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ تم فلسطین میں داخل ہو جاؤ تو اس پر بنی اسرائیل کے درمیان تذبذب ہوا۔ اس وقت بنی اسرائیل کے ایک صاحبِ ایمان نے اپنی قوم سے کہا کہ : ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (المائدۃ: 23) انھوں نے کہا کہ تم شہر میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے، اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔

اس آیت میں ”دخولِ پر غلبہ“ کے جس معاملہ کا ذکر ہے، وہ صرف بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عمومی اصول ہے۔ عمومی اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل حق کی برتر آئیڈیالوجی اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ وہ ہر جگہ ان کے لیے غلبہ کا ذریعہ بن جائے۔ اسلام کے دورِ اول میں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں داخل ہوئے تو قرآن کی آئیڈیالوجی ان کے لیے پر امن غلبہ کا ضامن بن گئی۔ وسیع تر انطباق (extended application) کے اعتبار سے یہ اصول موجودہ زمانہ میں مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانے کا ایک نیا ظاہر وہ ہے، جس کو کانفرنس کہتے ہیں۔ یہ اجتماعات موجودہ زمانے میں ہر جگہ بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ امن کانفرنس، انٹرفیتھ ڈائیلاگ، اور اسی طرح عید ملن اور روزہ افطار جیسے بہت سے اجتماعات ہیں، جو برابر مختلف عنوانات کے تحت ہوتے رہتے ہیں۔ ان اجتماعات میں تعلیم یافتہ لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ اس قسم کے اجتماعات، حق کے داعیوں کے لیے عظیم مواقع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ان میں شریک ہو کر لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں، اور اس طرح کے معروف عنوانات کے تحت وہ خود بھی اپنی طرف سے ایسے اجتماعات کا انتظام کر سکتے ہیں۔ ان کی برتر آئیڈیالوجی اس بات کی ضامن ہے کہ وہ ہر جگہ غالب رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page