دینی نہیں بلکہ قومی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۴
دینی نہیں بلکہ قومی
قرآن کی سورہ نمبر 3 میں تاریخ کے ایک معاملہ کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ وَتِلْكَ الأيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ * وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (آل عمران: 140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو قوم کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تا کہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
قرآن کی اس آیت کا مرکزی نقطہ (central point) بین الناس کے لفظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہاں بین الناس سے مراد بین الاقوام ہے۔ یعنی اس آیت میں، لوگوں کے ساتھ پیش آنے والے، اُس واقعہ کا ذکر ہے جو اُن کے درمیان قومی بنیاد پر پیش آتے ہیں۔ یعنی قانون فطرت کے مطابق، اس دنیا کا نظام مسابقت (competition) کے اصول پر قائم ہے۔ مذکورہ آیت میں، زمانہ رسول کے دو واقعے کا ذکر ہے بدر اور احد۔ بدر کے واقعہ میں مشرک قوم کو نقصان اٹھانا پڑا تھا، اُحد کے واقعہ میں موحد قوم کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اس طرح کے واقعات فطرت کے قانون کے مطابق، ہمیشہ ہر قوم کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایسے واقعے کو صحیح تناظر (right perspective) میں دیکھیں۔ اس سے وہ اپنے آپ کو منفی سوچ سے بچا سکیں گے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ جو واقعات پیش آئے، اُن کو بھی اسی قانون فطرت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے- اس طرح مسلمانوں کے اندر حقیقت پسندانہ مزاج (realistic approach) پیدا ہوگا۔ وہ اپنے آپ کو اس سے بچا سکیں گے کہ ان واقعات کو لے کر اُن کے اندر منفی سوچ پیدا ہو جائے، اور پھر وہ اپنے عمل کی مثبت منصوبہ بندی (positive planning) کرنے میں ناکام ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues