دینی نہیں بلکہ قومی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۵
مثلاً انیسویں صدی میں مسلمانوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ مغرب کی نو آباد یاتی قو میں ایشیا اور افریقہ میں پھیل گئیں، اور انھوں نے مسلمانوں کے قومی دبدبہ کو ختم کر دیا۔ اس پر تمام دنیا کے مسلمان مغربی قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ اگر اس معاملہ کو وہ قرآنی معیار سے دیکھتے تو وہ کہتے کہ اس سے پہلے مسلم قوموں نے دوسری قوموں کے اوپر اپنا دبدبہ قائم کیا تھا۔ اب تاریخ کے قانون کے مطابق، دوسری قوموں کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ مسلمانوں کے اوپر اپنا دبدبہ قائم کریں۔ مسلمان اگر اس طرح سوچتے تو وہ نئے حالات کے مطابق ، اپنے عمل کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کرتے۔ لیکن مسلمان اس تاریخی قانون سے بے خبر رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پوری مسلم دنیا مغربی قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو کر رہ گئی۔
1948 میں یہ واقعہ پیش آیا کہ یہود نے نئے حالات سے فائدہ اٹھایا اور فلسطین کے نصف حصے پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ جس پر مسلمان مشتعل ہوگئے-وہ وہ اسرائیل کے خلاف بے نتیجہ قسم کی منفی کارروائیوں میں مشغول ہو گئے، حالاں کہ اگر وہ سوچتے کہ اس سے پہلے، سیکڑوں سال تک مسلم قوم نے فلسطین پر اپنی حکومت قائم کر رکھی تھی۔ اب اگر یہود قوم کو موقع ملا ہے تو وہ قوموں کے بارے میں تاریخی قانون کی بنا پر پیش آیا ہے۔
مسلمان اگر اس طرح سوچتے تو اُن کے اندر حقیقت پسندانہ فکر پیدا ہوتی۔ وہ نئے حالات کے لحاظ سے اپنے عمل کا نتیجہ خیز منصوبہ بناتے، لیکن عملا یہ ہوا کہ انھوں نے منفی کارروائیوں میں مبتلا ہو کر صرف اپنے نقصان میں مزید اضافہ کر لیا۔
اسی طرح ہندوستان میں یہ واقعہ پیش آیا کہ 6 دسمبر 1992 کو ہندوؤں کا ایک مشتعل گروہ اجودھیا میں داخل ہوا، اور بابری مسجد کی عمارت کو ڈھادیا۔ اس وقت مسلمان اگر یہ سوچتے کہ اس سے پہلے 1001 میں مسلم سلطان نے سومناتھ میں ہندوؤں کے مندر کو ڈھادیا تھا، اُس کے بعد انتقامی طور پر اجودھیا کا واقعہ پیش آیا۔ مسلمان اگر اس طرح سوچتے تو اُن کے اندر مثبت طرزِ فکر پیدا ہوتا، وہ حقیقت پسندانہ اور نتیجہ خیز (result oriented) انداز میں اپنے عمل کا منصوبہ بناتے، اور پھر یقینی طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues