دعوتی اسپرٹ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۳۹
دعوتی اسپرٹ
بیگم اختر (وفات: 1974) انڈیا کی ایک مشہور مغنیہ (singer) تھیں ۔ ان کو اپنے پروفیشن سے عشق کے درجہ کا تعلق تھا۔ انھوں نے ایک بار اپنے ایک شاگرد سے کہا کہ ــــ ایک بھی اگر کہیں سننے والا ہے تو اس کو ڈھونڈو اور جا کر اس کو سناؤ۔
یہ ایک آرٹسٹ کی اسپرٹ ہے۔ یہی وہ اسپرٹ ہے جو ایک آرٹسٹ کو ایک بڑا آرٹسٹ بناتی ہے۔ جس آرٹسٹ کے اندر یہ اسپرٹ نہ ہو وہ کبھی بڑا آرٹسٹ نہیں بن سکتا۔
دین کا داعی بھی گویا ایک ڈوائن آرٹسٹ ہوتا ہے۔ سچا داعی وہ ہے جس کے اندر یہ اسپرٹ اعلیٰ درجہ میں موجود ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی نظر کمّیت (quantity) پر نہیں بلکہ کیفیت (quality) پر ہونی چاہئے۔
داعی کے اندر اگر یہ اسپرٹ ہے، تو وہ کبھی مایوس نہیں ہوگا۔ وہ ہمیشہ پر امید (hopeful) رہے گا۔ اگر اُس کو ایک انسان ایسا مل جائے، جو متلاشی (seeker) ہو تو وہ اُس ایک انسان کو اتنا زیادہ اہمیت دے گا، جیسے کہ وہی اس کے لئے ساری انسانیت ہے۔ سچا داعی وہ ہے جو ایک انسان کو بھی سارے انسانوں کے برابر سمجھے۔ جو ایک انسان پر بھی اتنا زیادہ محنت کرے، جتنا کوئی شخص ساری دنیا کے انسانوں پر محنت کرے گا۔
سچے داعی کی نظر اپنی ذمہ داری پر ہوتی ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اُس کے سامنے انسانوں کی ایک بھیڑ ہے، یا صرف ایک انسان ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ اُس کو اپنے دعوتی عمل کا کوئی اجر ملے گا یا نہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ لوگ اُس کی بات مانیں گے یا نہیں مانیں گے۔ سچا داعی صرف اللہ کے لئے کام کرتا ہے نہ کہ دنیا کے وقتی فائدوں کے لئے۔ ایسا ہی داعی، سچا داعی ہے۔ اور یہی وہ داعی ہے جس کو آخرت کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ جس نے ایک شخص کو زندگی دی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی دے دی (المائدۃ: 32)۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues