Al-Risala · December 2014 · page 40

شکایت کا نقصان

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۴، صفحہ ۴۰

شکایت کا نقصان

شکایت (complaint) نہایت مہلک چیز ہے۔ تمام اجتماعی خرابیاں ہمیشہ شکایت کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں۔ جب دو یا زیادہ آدمی ایک ساتھ رہیں، تو اُن کے درمیان لازماً ایسے اختلاف پیدا ہوتے ہیں، جو شکایت بن جاتے۔ پھر یہ شکایت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کو برا سمجھنے لگتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ حالت اگر دیر تک باقی رہے، تو دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان ایسی نفرت پیدا ہو جاتی ہے جو پھر کبھی ختم نہیں ہوتی۔

شکایت کا واحد حل یہ ہے کہ اُس کو سنجیدگی کے ساتھ نہ لیا جائے، بلکہ اُس کو بھلا دیا جائے۔ شکایت پیدا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ نہ تو اُس کی تحقیق کرے اور نہ اس کو یاد رکھے، بلکہ یک طرفہ طور پر اُس کو بھلا دے۔ اجتماعی زندگی میں شکایت کا پیدا ہونا فطری ہے۔ لیکن شکایت کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ اس کی پوچھ گچھ کی جائے، اور اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ موجودہ دنیا میں شکایت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ یہاں عملاً صرف یہ ہو سکتا ہے کہ شکایت کو یاد نہ رکھا جائے، اُس کا چر چا نہ کیا جائے، اُس کو تعلقات کی بنیاد نہ بنایا جائے، شکایت کے مسئلے کا یہی واحد حل ہے۔ عملی اعتبار سے شکایت کے مسئلے کا دوسرا کوئی حل نہیں۔ جو آدمی چاہتا ہو کہ وہ مثبت ذہن کے ساتھ اس دنیا میں رہے، اور مثبت ذہن کے ساتھ اس دنیا سے چلا جائے، اُس کے لیے اس کے سوا کوئی اور صورت عملاً ممکن نہیں۔ شکایت کا معاملہ ہمیشہ ایک پیچیدہ معاملہ ہوتا ہے۔ اس لئے شکایت کا عملی حل (practical solution) صرف یہ ہے کہ شکایت کو بحث کا موضوع نہ بنایا جائے بلکہ اس کو ایک ایسی چیز سمجھا جائے، جس کا حل اُس کو بھلا دینا ہے، نہ کہ یہ دیکھنا کہ وہ صحیح ہے یا غلط۔ تجربہ بتاتا ہے کہ پوچھ گچھ سے شکایت ختم نہیں ہوتی، بلکہ اکثر زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں شکایت کا عملی حل یہی ہے کہ اس کو بھلا دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2014 All issues

Printed page