ضرورت، نہ کہ فضیلت
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
ضرورت، نہ کہ فضیلت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے مطابق، پیغمبر اسلام نے فرمایا: لقد كان فيما قبلكم من الأمم ناس محدّثون، فإن يك في أمتي أحد فإنه عمر (صحیح البخاري، کتاب فضائل الصحابة، باب مناقب عمر بن الخطاب، رقم الحدیث: 3689) یعنی تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، اُن میں محدّث افراد ہوتے تھے۔ اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہو گا تو وہ عمر ہیں۔
اس حدیثِ رسول میں حضرت عمر فاروق کا حوالہ اس معنی میں نہیں ہے کہ صرف وہی ایک شخص ہیں جو کہ امتِ مسلمہ میں محدّث ہوں گے (فتح الباری: 62/7)۔ محدّث کا معاملہ کسی شخص کی پراسرار فضیلت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک دینی ضرورت کا معاملہ ہے۔ اس اعتبار سے، وہ ایک سنتِ الہی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے زمانے میں فترہ کے وقت محدّث پیدا ہوتے تھے، یعنی دو نبیوں کے درمیان وقفہ (interval of time) کے زمانے میں، اور خاتم الانبیا کے ظہور کے بعد، حسب حالات، قیامت تک محدّث افراد کا ظہور ہوتا رہے گا۔
اصل یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں ضرورت ہوتی ہے کہ دین کی تعلیمات کا از سر نو انطباق معلوم کیا جائے۔ یہ کام امت کا کوئی عالم انجام دیتا ہے۔ ایسے ہی شخص کو مجتہد یا محدّث کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک دینی خدمت ہے۔ کسی شخص کو یہ حق نہیں کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ میں مجتہد ہوں یا میں محدّث ہوں۔ محدّث کا رول اللہ کی توفیق سے انجام پاتا ہے۔ یہ توفیق صرف اُس شخص کو ملتی ہے جو اپنے علم اور اپنے تقوی کے ذریعے خود کو اس خدمت کا اہل ثابت کرے۔ محدث سے مراد مُلہم شخص (inspired person) ہے۔ کون شخص محدّث ہے، اس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے۔ خود کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں محدّث ہوں۔ پیغمبر اپنے کام کا آغاز دعوے سے کرتا ہے، محدّث کو ہرگز یہ حق نہیں کہ وہ اس قسم کا کوئی دعویٰ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues