تقدیر کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴
تقدیر کا مسئلہ
تقدیر (destiny) کیا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز پیشگی طور پر مقدر (pre-determined) ہے۔ کسی آدمی کو وہی ملے گا جو اس کے لیے پیشگی طور پر لکھ دیا گیا ہے، نہ اُس سے زیادہ نہ اُس سے کم۔ اصولی طور پر یہ بات درست ہے، لیکن اس کو جس معنیٰ میں لیا جاتا ہے، وہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چیزوں کے مقدر ہونے کا مطلب انسان کے مستقبل کا پیشگی طور پر فیصلہ نہیں ہے، بلکہ اس اصول کا پیشگی فیصلہ کرنا ہے کہ کس نقشہ عمل کو اختیار کر کے کوئی شخص اپنا مستقبل بنا سکتا ہے۔ گویا خود مستقبل مقدر نہیں ہے، بلکہ مستقبل سازی کے لیے تدبیر کار کو مقدر کر دیا گیا ہے۔ یہ تدبیر کار بلاشبہ حتمی ہے، لیکن انجام کے معنی میں کسی کا مستقبل پیشگی طور پر حتمی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو صرف تخلیق نہیں کیا ہے، بلکہ اس نے اپنے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، یہ بھی مقدر کر دیا ہے کہ آدمی کی کامیابی کے لیے صحیح اور فطری طریق کار کیا ہے۔ اس معاملے میں آدمی کے لیے کوئی دوسرا چوائس (choice) لینا ممکن ہی نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو تقدیر الہی کہا جاتا ہے۔
اس معاملے کی ایک مثال کی یہ حدیث ہے : إن الله يعطي على الرفق، ما لا يعطي على العنف (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2593) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس حدیث میں يعطى کا ترجمہ بظاہر عطا کرنا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اس کا مطلب ہے عطا ہونا، یعنی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے فطرت کا جو نظام بنایا ہے، اس کے تحت یہاں صرف مبنی بر رفق عمل نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ مبنی بر عنف عمل یہاں کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ انسان اپنا مستقبل خود تعمیر کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے، لیکن تعمیر خویش کا یہ کام ہمیشہ فطرت کے نقشے کے مطابق انجام پاتا ہے۔ فطرت کے نقشے سے انحراف کر کے اس دنیا میں کوئی شخص اپنے لیے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues