Al-Risala · February 2014 · page 12

اسکالراورمفکرکا فرق

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۱۲

نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ فریق ثانی کا تو کچھ نقصان نہیں ہوگا، البتہ مسلمان نفرت اور تشدد کے دلدل میں پھنس کر خود اپنی ہلاکت میں اضافہ کر لیں گے، اس کے سوا کچھ اور نہیں۔

ایسی حالت میں مفکر کا کام یہ ہے کہ وہ چیزوں کو سارٹ آؤٹ کرے۔ وہ متفرقات کے جنگل میں وحدت کا نقطۂ دریافت کرے۔ اس دریافت کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ امت اپنے عمل کے لیے صحیح نکتہ آغاز (right starting point) پالے۔ صحیح نقطہ آغاز کی دریافت کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ امت درست سمت میں اپنا سفر شروع کرے اور پھر مطلوب منزل تک پہنچ جائے۔

اس معاملے میں قرآن وسنت کی روشنی میں غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ حالات میں امت کے لیے صحیح نقطۂ آغاز صرف ایک ہے اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ دعوت الی اللہ کا صحیح نقطہ آغاز ہونا قرآن وسنت سے واضح طور پر ثابت ہے (74:2)۔

اس طرح کے معاملے میں مثبت نشانہ دریافت کرنے سے بھی زیادہ ضروری یہ ہوتا ہے کہ نشانہ عمل کے منفی پہلوؤں کو دریافت کیا جائے، یعنی ’’کیا کرنا ہے‘‘ کے ساتھ یہ جاننا کہ ’’کیا نہیں کرنا ہے‘‘۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ صرف ’’کیا کرنا ہے‘‘ کو جانیں، مگر وہ ’’کیا نہیں کرنا ہے‘‘ سے بے خبر رہیں، ایسے لوگوں کے لیے صرف یہ انجام مقدر ہے کہ وہ کسی انجام تک نہ پہنچیں، خواہ انھوں نے طورِ خود عمل اور قربانی کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page