اسکالراورمفکرکا فرق
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۱۱
ایسی حالت میں یہ لوگ اس کے اہل ہی نہ تھے کہ وہ دورِ جدید میں مفکر کا رول ادا کر سکیں۔ مفکر کی تعریف (definition) یہ کی جاتی ہے کہ ـ مفکر وہ ہے جو حقائق متفرقہ کو حقیقتِ واحدہ میں تبدیل کر سکے، وہ بکھری ہوئی حقیقتوں کو داخلی طور پر ایک ہم آہنگ گل (inter-related whole) بنا سکے۔ اپنی اسی خصوصیت کی بنا پر مفکر کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ کسی زمانے کے حالات کی ایسی تعبیر کر سکے جس میں لوگ غیر مشتبہ طور پر اپنا واحد نشانہ پالیں۔ مختلف قسم کے منفی پہلوؤں کے درمیان وہ یہ دریافت کر سکیں کہ مثبت طرزِ فکر (positive way of thinking) کی تشکیل وہ کس طرح کر سکتے ہیں۔
قانونِ فطرت کے مطابق ایسا ہے کہ دنیا ہمیشہ افکار کا جنگل بنی رہتی ہے۔ یہ افکار ہمیشہ متضاد پہلوؤں کے حامل ہوتے ہیں۔ مختلف رنگ کے پتھروں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن ہے، لیکن مختلف نوعیت کے افکار کو ایک دوسرے سے الگ کرنا بلاشبہ مشکل ترین کام ہے۔ مفکر کی اہم ترین صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ چیزوں کو سارٹ آؤٹ (sort out) کر سکے، وہ مختلف اور متفرق اجزا کے ڈھیر میں پائے جانے والے مطلوب جُز اور غیر مطلوب جُز کو ایک دوسرے سے الگ کر سکے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو ایک مفکر کے اندر مبنی بر فوکس سوچ (focused-thinking) پیدا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر امتِ مسلمہ کی حالت کو دیکھئے۔ موجودہ زمانے میں امت مختلف قسم کے خارجی مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ اسرائیل کا مسئلہ، مسلم ممالک میں امریکا کی دراندازی، قرآن اور پیغمبر اسلام کے خلاف پروپیگنڈا، مسلمانوں کے بارے میں میڈیا کی منفی روش، ہندو ریز وائل کرم (Hindu revivalism)، مغربی تہذیب کا چیلنج، اسلامی شریعت میں دوسروں کی مداخلت، مسلم دشمنوں کی سازش، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مستشرقین کے اعتراضات، وغیرہ۔ ان تمام مسائل کو لے کر اگر ایک ہمہ گیر جدوجہد شروع کی جائے تو ایسی ہمہ گیر جدوجہد صرف ایک نتیجہ پیدا کرے گی اور وہ ہے ـ احتجاجی صحافت یا احتجاجی قیادت۔ اس طرح کی نام نہاد ہمہ گیر جدو جہد اگر ہزار سال تک جاری رہے، تب بھی اُس سے کوئی مثبت نتیجہ پیدا ہونے والا نہیں۔ اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues