حدیبیہ انقلاب
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۱۶
تجربہ بتاتا رہے کہ پوری تاریخ میں اربابِ کار اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ انسان کی انتقامی نفسیات اس میں رکاوٹ ہے کہ جنگ کے ذریعے کوئی مثبت مقصد حاصل کیا جاسکے۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل طریقہ صرف یہ ہے کہ جنگ کے بجائے صلح کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ صلح کا فائدہ یہ ہے کہ فریقین کے درمیان پر امن ماحول قائم ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ حالات کے اندر چھپے ہوئے مواقع کو دریافت کر کے انھیں استعمال کیا جائے ۔ اس مصالحانہ پالیسی کے تحت کامیابی کا حصول پوری طرح ممکن ہو جاتا ہے، کیوں کہ مواقع کے استعمال ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ خدائی منصوبہ بندی اس معاملے میں انسان کو صحیح رہنمائی دینے کے لیے اللہ نے تاریخ میں مداخلت کا فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں پیش آیا۔ اللہ نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذریعہ بنایا۔ اس کا آغاز ایک خواب سے ہوا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مدینہ میں تھے۔ یہاں آپ نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب کے مطابق ، آپ ذوالقعدہ 6 ہجری میں اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس کے بعد مختلف واقعات پیش آئے ۔ آخر کار طویل گفت و شنید (negotiation) کے بعد فریقین کے درمیان وہ معاہدہ طے پایا جس کو تاریخ میں معاہدہ حدیبیہ (Hudaibia Agreement) کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ اپنی تفصیلات کے اعتبار سے، کئی شرطوں پر مشتمل تھا، لیکن اس کی بنیادی شرط صرف ایک تھی، وہ یہ کہ دس سال تک دونوں فریقوں کے درمیان کوئی جنگ نہ ہوگی۔ اس شرط کے الفاظ یہ تھے: هذا ما صالح محمد بن عبد الله سهيل بن عمرو اصطلحاعلى وضع الحرب عن الناس عشر سنين، يأمن فيهن الناس ويكف بعضهم عن بعض (سيرة ابن كثير : 3/321) یعنی یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان طے ہوا۔ دونوں اس پر رضا مند ہوئے کہ دونوں کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی۔ معاہدہ حدیبیہ دراصل دس سال کے لیے ایک ناجنگ معاہدہ (no-war pact) تھا۔ مگر دونوں فریقوں کے درمیان اُس وقت دشمنی کا جو ماحول تھا، اُس کے اعتبار سے اس قسم کا معاہدہ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues