حدیبیہ انقلاب
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۱۷
ایسا معاہدہ تھا جو عملاً ناممکن نظر آتا تھا۔ چناں چہ بظاہر یہ ناممکن چیز صرف اُس وقت ممکن ہوئی، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فریق ثانی کی کڑی شرطوں کو یک طرفہ طور پر منظور کر لیا۔ مثلاً ایک شرط یہ تھی کہ مکہ کا کوئی شخص اگر اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تو اس کو دوبارہ مکہ والوں کی طرف لوٹانا ہوگا۔ اس کے برعکس، مدینے کا کوئی شخص اگر مکہ چلا جائے تو اہل مکہ کو حق ہوگا کہ وہ اس کو مکہ میں روک لیں اور دوبارہ اس کو مدینہ واپس نہ کریں۔ اسی طرح اس معاہدے کی ایک شرط یہ تھی کہ تمام اہل ایمان اس سال حدیبیہ سے مدینہ واپس چلے جائیں، وہ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل نہ ہوں۔
معاہدہ حدیبیہ ایک کاغذ پر لکھا گیا تھا۔ حضرت علی بن ابی طالب اس کی کتابت کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق، انھوں نے پہلا جملہ یہ لکھا: هذا ما صالح عليه محمد رسول اللہ۔ فریق ثانی کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے اس پر اعتراض کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے، اس لیے آپ صرف ”محمد بن عبد اللہ لکھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے کہا کہ تم کاغذ پر رسول اللہ“ کا لفظ مٹا دو اور صرف ”محمد بن عبد اللہ لکھو۔ حضرت علی کا کاغذ سے ’رسول اللہ کا لفظ مٹانے پر راضی نہ ہوئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کو اپنے ہاتھ سے کاغذ سے مٹا دیا۔ اس معاہدے کی تکمیل کے بعد رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے۔ اس معاہدے سے پہلے دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل طور پر ایک حالت جنگ (state of war) قائم تھی۔ اس بنا پر اسلام کا دعوتی مشن عملاً تقریباً متروک ہو کر رہ گیا تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مکمل امن قائم ہو گیا۔ اب پیغمبر اور آپ کے اصحاب نے دعوت کا نیا منصوبہ بنایا۔ انھوں نے منظم انداز میں مدینہ کے اطراف میں مسلسل طور پر دعوتی کام شروع کر دیا۔ عرب کے مختلف علاقوں میں آباد قبائل کے درمیان وفود بھیج کر دعوتی کام کیا جانے لگا، حتی کہ عرب کے باہر جو حکومتیں قائم تھیں، اُن کے یہاں دعوتی وفود بھیجے جانے لگے۔ خود مکہ میں رشتے داروں کے ذریعے آمد و رفت جاری ہو گئی۔ اس طرح خود مکہ میں توحید کی آواز پہنچنے لگی۔ پرامن ماحول میں اس طرح دعوتی سرگرمیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ کثرت سے اسلام کے حلقے میں داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ صرف دو سال کے اندر اہل ایمان کی تعداد اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues