Al-Risala · February 2014 · page 18

حکمتِ حدیبیہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۱۸

یہ ممکن ہو گیا کہ جنگ کے بغیر خود اہل ایمان کی تعداد اسلام کی فتح کے لیے کافی ہو جائے ۔ چناںچہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموش منصوبہ بندی کے تحت دس ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرزِف مارچ کیا ۔ اس طرح کسی جنگ کے بغیر مکہ پر اہل ایمان کا غلبہ قائم ہو گیا۔ توحید کی آواز انسانی فطرت کی آواز ہے۔ اگر معتدل ماحول میں دعوتی کام ہو تو پرامن دعوت ہی لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے کے لیے کافی ہو جائے ۔ روایات میں آیا ہے کہ جب اچانک ایک صبح کو اہل مکہ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے ہیں تو مکہ کے سردار ابوسفیان نے یہ اعلان کر دیا: یا معشر قریش، هذا محمد قد جاء کم فيما لا قبل لكم به، فمن دخل دار أبي سفيان فهو آمن (سيرة ابن هشام: 4/23) یعنی اے قریش کے لوگو، یہ محمد ہیں جو اس طرح مکہ میں داخل ہو گئے ہیں کہ تمھارے اندر اُن کے مقابلے کی طاقت نہیں۔ معاہدہ حدیبیہ کے نتیجے میں جو تاریخی واقعہ پیش آیا، اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (1-2: یعنی جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح ، اور تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں ’نصر اللہ‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر نصر عزیز کہاگیا ہے۔ یَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً‘ کے الفاظ میں اُس واقعے کا ذکر ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیش آیا۔ لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے کہ ان کی کثرت تعداد ہی فتح کا سبب بن گئی۔

حکمتِ حدیبیہ

نزاع (conflict) کے معاملے میں انسان قدیم زمانے سے صرف یہ جانتا تھا کہ ایسے معاملے میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (choice) ہوتا ہے — جنگ یا پسپائی۔ مگر انسان کی یہ سوچ ثنائی طر فکر (dichotomous thinking) پر مبنی تھی۔ قانون فطرت کے مطابق، یہاں ایک اور انتخاب ممکن تھا جس سے پوری تاریخ میں انسان بے خبر رہا۔ وہ انتخاب یہ تھا کہ یک طرفہ صلح کے ذریعے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page