War and Peace, by Leo Tolstoy—1865
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۲۰
اس سورہ کی ابتدائی تین آیتیں یہ تھیں: اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فۡتَحۡا مُّبِیۡنًا ۙ لَّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا (48:1-3) یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی تا کہ اللہ تمھاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ الفتح دوران سفر اس وقت اتری جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے بعد حدیبیہ سے مدینہ جا رہے تھے۔ اُس وقت جو واقعہ ہوا تھا، وہ صرف معاہدۂ امن تھا۔ جہاں تک فتح کی بات ہے، وہ ابھی مستقبل کی چیز بنی ہوئی تھی۔ پھر کیوں ایسا ہوا کہ ماضی کے صیغے میں ارشاد ہوا کہ ہم نے تم کو فتح دے دی، کھلی ہوئی فتح۔ یہ اسلوب دراصل امن کی اہمیت بتانے کے لیے تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب حقیقی معنوں میں پرامن طریقہ (peaceful method) اختیار کیا جائے، تو اُس کے بعد موافق نتیجے کا نکلنا یقینی ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ لِیَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ، اِس آیت میں 'ذنب' کا لفظ ہے۔ 'ذنب' کے لفظی معنی گناہ (sin) کے ہوتے ہیں۔ مگر یہاں 'ذنب' کا لفظ اپنے معروف معنی کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ شدتِ اظہار کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر یک طرفہ امن کی طرف رہنمائی کی تو تمھارے اندر اس کے درست ہونے پر شک کیوں پیدا ہوا۔
جیسا کہ روایات میں آیا ہے، صحابہ نے اس معاہدے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ حضرت عمر فاروق نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ: لم نعطي الدنية في ديننا (ہم اپنے دین کے بارے میں ذلت کا طریقہ کیوں اختیار کریں)۔ اسی طرح یہاں'مغفرت' سے مراد معروف معنی میں بخشش (salvation) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تحریک توحید کے دوران اہل ایمان سے تدبیر کے اعتبار سے جو خطائیں ہوئیں، اُن کو موثر نہ ہونے دینا، ان تدبیری خطاؤں کے باوجود آخری کامیابی کو یقینی بنانا۔ آیت میں واحد کا صیغہ (لیغفر لك) استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے، مگر یہ خطاب نمائندہ ہونے کے اعتبار سے ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues