War and Peace, by Leo Tolstoy—1865
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۲۴
موجودہ زمانے میں انسانی تعلقات کے درمیان جو تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس کے بعد یہی حدیبیہ کلچر تمام قوموں کے اتفاق کے ساتھ ساری دنیا میں رائج ہو گیا ہے۔ اس اعتبار سے، موجودہ دور کو دور حدیبیہ (age of Hudaibia) کہا جا سکتا ہے۔ پچھلے دور میں حدیبیہ کلچر صرف مقامی طور پر آیا تھا۔ موجودہ زمانے میں حدیبیہ کلچر کسی قربانی کے بغیر عالمی سطح پر قائم ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا قیام اقوام متحدہ (UNO) 1945 میں قائم ہوئی۔ اس ادارے کا خاص مقصد عالمی امن کا قیام تھا۔ دنیا کے تمام ممالک باقاعدہ طور پر اس کے ممبر بنے۔ اس بین اقوامی ادارے کا ہیڈ کوارٹر نیو یارک (امریکا) میں قائم ہے۔ اس عالمی ادارے کے تحت تمام ملکوں کے اتفاق سے یک چارٹر (charter) تیار کیا گیا، جس کو اقوام متحدہ کا منشور (Charter of the United Nations) کہا جاتا ہے۔ اس چارٹر کے تحت تمام قوموں کے اتفاق سے ایک قرارداد طے پائی جو دفعہ 2 (4) کے طور پر اس چارٹر میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے اس چارٹر کی دفعہ کے تحت تمام قوموں کے اتفاق سے یہ طے پایا کہ — تمام ممبر ممالک بین اقوامی تعلقاتی میں اس کے پابند ہیں کہ وہ کسی ریاست کو اس کے استحکام یا اس کی سیاسی آزادی کے معاملے میں دھمکی نہیں دیں گے اور نہ اس کے خلاف طاقت کا استعمال کریں گے: All Members shall refrain in their international relations from the threat or use of force against the territorial integrity or political independence of any state. اقوام متحدہ کے چارٹر کی یہ دفعہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے، عین وہی ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے وقت طے پائی تھی۔ مزید یہ کہ ساتویں صدی میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت فریق ثانی کی جن شرطوں کو ایک طرفہ طور پر ماننا پڑا تھا، بیسویں صدی میں تمام قوموں نے ان شرطوں کو بطور خود حذف کر دیا۔ موجودہ زمانے میں اہل ایمان کو اس چارٹر کے مطابق، خود حالات کے تحت، عالمی امن حاصل ہو گیا ہے۔ اسی کے ساتھ موجودہ زمانے میں مزید اضافے کے ساتھ وہ تمام امکانات اور مواقع پوری طرح کھل گئے ہیں جو دعوت الی اللہ کے عالمی مشن کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً مذہبی آزادی، کھلا پن
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues