War and Peace, by Leo Tolstoy—1865
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۲۳
کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اہل ایمان کو اپنے حریف کے اوپر بالادستی حاصل ہوگئی ، یعنی اہل ایمان اپنے حریف کے مقابلے میں ایڈوانٹیج کی پوزیشن میں آگئے۔
معاہدہ حدیبیہ کے وقت فریق ثانی کے پاس صرف تلوار کی طاقت تھی۔ اس معاہدے نے فریق ثانی کو پابند کر دیا کہ وہ اپنی تلوار کو اہل ایمان کے خلاف استعمال نہ کرے۔ اس طرح گویا اہل ایمان کے مقابلے میں، فریق ثانی خود تو بے طاقت ہو کر رہ گیا۔ لیکن اہل ایمان کے پاس تلوار کے سوا ایک اور چیز تھی جو فریق ثانی کے پاس نہ تھی اور وہ ہے نظریہ توحید (ideology of Tawhid)۔ یہ نظریاتی طاقت پوری طرح قابلِ استعمال تھی۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ فریق ثانی عملی طور پر کچھ کرنے کے قابل نہ رہا۔ اس کے برعکس، امن کے قیام کی بنا پر اہل ایمان کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنی پوری طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آئیڈیالوجی کی بھر پور تبلیغ کریں۔
چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ ایک طرف فریق ثانی اس پر مجبور ہو گیا کہ وہ اہل ایمان کے خلاف اپنی تلوار نہ استعمال کرے اور دوسری طرف اہل ایمان کامل آزادی کے ماحول میں نظریہ توحید کی تبلیغ واشاعت میں ہمہ تن مشغول ہو گئے۔ انھوں نے عرب کے تمام شہروں اور قبیلوں میں توحید کا پیغام پہنچانا شروع کر دیا، حتی کہ عرب کے باہر جو ممالک تھے، اُن کے باشندوں تک بھی وہ اسلام کا پیغام پہنچانے لگے۔ اسی حکمتِ حدیبیہ کا یہ نتیجہ تھا کہ صرف دو سال میں پورا عرب اسلام میں داخل ہو گیا۔ حدیبیہ پالیسی کا فائدہ صرف یہ نہ تھا کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب کے ملک میں اسلام کو یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ مختصر مدت میں وہاں ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) آ گیا۔ اس کا دوسرا عظیم فائدہ یہ ہوا کہ حدیبیہ پالیسی کے ذریعے عرب میں جو انقلاب آیا، اُس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایک نیا عمل (process) جاری کر دیا۔ عمیق مختلف مراحل سے گزرتا ہوا موجودہ دور تک پہنچا۔ اس اعتبار سے، موجودہ دور کو حدیبیہ پر اس کا نقطہ انتہا کہا جا سکتا ہے۔ حدیبیہ حکمت کیا تھی ۔ حدیبیہ حکمت مختصر طور پر یہ تھی کہ جنگی ٹکراؤ کو بند کر کے امن کا ماحول قائم کرنا اور پھر پُرامن کوشش کے ذریعے اسلام کے فطری پیغام (natural message) کو لوگوں تک پہنچانا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues