Al-Risala · February 2014 · page 26

War and Peace, by Leo Tolstoy—1865

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۲۶

ظہور میں آئے، وہ وہی ہیں جن کو مغربی تہذیب، جمہوری افکار، اقوام متحدہ، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ یہ بظاہر سیکولر انقلابات تھے لیکن اللہ نے ان بظاہر سیکولر انقلابات کو دین کی تائید کا ذریعہ بنا دیا۔ خلاصہ کلام ساتویں صدی عیسوی میں حدیبیہ معاہدے کا جو موافق نتیجہ ظاہر ہوا تھا، اس کو قرآن میں فتح مبین‘ کہا گیا ہے۔ حدیبیہ معاہدہ کوئی پراسرار چیز نہ تھی، وہ ایک معلوم حکیمانہ تدبیر تھی ۔ ساتویں صدی عیسوی میں اس تدبیر کو صرف محدود طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ وہ بھی اس طرح کہ رسول اور اصحاب رسول کو یہ قربانی دینی پڑی تھی کہ وہ فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیں، حتیٰ کہ لفظ ’’رسول اللہ‘‘ کو وہ معاہدے کی دستاویز سے مٹا دیں۔ مگر بعد کو اللہ کی مدد سے جو حالات پیدا ہوئے، اُس کے بعد ایسا ہوا کہ حدیبیہ انقلاب وسیع تر معنی میں ایک عالمی انقلاب بن گیا۔ حدیبیہ معاہدے کے ذریعے جو امکانات صرف دس سال کے لیے حاصل کیے گئے تھے، موجودہ زمانے میں انھوں نے مستقل طور پر عالمی اصول (universal norm) کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اب نہ دوسروں کی شرطوں کو ماننے کی ضرورت ہے اور نہ کسی دستاویز سے ’’رسول اللہ‘‘ کے لفظ کو مٹانے کی ضرورت۔ حدیبیہ معاہدے کے بعد اہل ایمان کو کام کے جو مواقع ملے تھے، وہ اب مزید اضافے کے ساتھ اُن کو حاصل ہو چکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ ان مواقع کو دریافت کیا جائے اور دانش مندی کے ساتھ اس کو استعمال کیا جائے۔ (31 اگست 2013) ’’پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا جیون‘ ’’سیرت رسول‘‘ کا ہندی ترجمہ یہ کتاب سیرت رسول کا ایک سادہ اور واقعاتی مطالعہ ہے۔ یہ کتاب پیغمبر اسلام کی زندگی کی ایک تاریخی تصویر ہے۔ زیرِ نظر کتاب معلوماتی اسلوب میں سیرت رسول کا ایک تفصیلی تعارف ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page