Al-Risala · February 2014 · page 27

تاریخِ مذہب

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۲۷

تاریخِ مذہب

مذہب (religion) انسان کے لیے ویسا ہی ہے، جیسے بقیہ کائنات کے لیے قانونِ فطرت (law of nature)۔ بقیہ کائنات فطرت کے لازمی قوانین کے تحت کنٹرول ہورہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان ایک آزاد مخلوق ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ مذہب کے خدا داد اصولوں کے تحت اپنی زندگی کو خود منظم کرے۔ آزادی کے اسی صحیح یا غلط استعمال پر انسان کے مستقبل کا انحصار ہے۔ اس اعتبار سے مذہب کی تعریف یہ ہوگی کہ۔ مذہب نام ہے خدائی قوانین کی بنیاد پر انسانی زندگی کی تنظیم کا۔ موجودہ زمانے میں علمِ انسانیات (anthropology) کے نام سے ایک مستقل شعبہ علم وجود میں آیا ہے۔ اس علم کے تحت، ہر دور کے انسانی سماجوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مطالعے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہر زمانے کے سماج میں انسان کے اندر خدا کا عقیدہ پایا جاتا تھا، یعنی ایک ایسی فوق الطبیعی ہستی (supernatural being) کا عقیدہ، جو قائم بالذات (self-existent) ہے، جس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا، جو تمام عالمِ موجودات کو کنٹرول کر رہی ہے، جس کے قبضہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔ قرآن کی سورہ اخلاص (112) میں خدا کی صفات کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: ”کہو، وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔ اور کوئی اس کے برابر نہیں“۔

آدم کی تخلیق

انسان ارتقائی طور پر نہیں پیدا ہوا، بلکہ وہ پہلے ہی دن کامل انسان کے طور پر وجود میں آیا۔ یہ خدا کی تخلیق تھی۔ خدا اس پر قادر ہے کہ وہ لاشے سے شَے کو پیدا کرے۔ اس نے انسان کو وجود عطا کیا، جب کہ اس سے پہلے وہ مکمل طور پر معدوم تھا (19:9)۔ اس پہلے کامل انسان کا نام آدم ہے۔ خدا نے انسان کو پیدا کر کے اُس کو باغوں والی ایک دنیا میں بسایا، جس کو قرآن میں ”جنت“ کہا گیا ہے۔ اس جنت میں آدم کو پوری آزادی حاصل تھی، البتہ اس میں ایک درخت کو خدا نے شجرۂ ممنوعہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page