Al-Risala · February 2014 · page 36

غلط تسمیہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۳۶

مرحلہ حیات (pre-death period) اور بعد از موت مرحلہ حیات (post-death period) آج زمین کے اوپر انسان کو جو چیزیں ملی ہوئی ہیں ، وہ چوں کہ صرف دورانِ امتحان تک کے لیے ہیں ، اس لیے امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی یہ تمام چیزیں اُس سے مکمل طورپر چھن جائیں گی ۔ اس کے بعد انسان اپنے آپ کو روزِ حساب میں پائے گا۔ وہاں خدا اس کو اس کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق ، یا تو جنت میں داخل کرے گا ، یا جہنم میں ڈال دے گا۔ جنت والے لوگ مزید اضافے کے ساتھ ان چیزوں کو دوبارہ پالیں گے، اور جہنم والے لوگ ہمیشہ کے لیے ان چیزوں سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ انسانی زندگی کی اس نوعیت کو دیکھیے تو لائف سپورٹ سسٹم کا لفظ ، ایک اعتبار سے، غلط تسمیہ کی ایک مثال نظر آتا ہے۔ خالق کے منصوبے کی روشنی میں ان چیزوں کو زیادہ صحیح طور پر ٹسٹ سپورٹ سسٹم کہا جانا چاہیے ، یعنی وہ چیزیں جو انسان کو وقتی طور پر اس لیے دی گئی ہیں ، تا کہ وہ اس مرحلہ امتحان میں اپنی زندگی کو باقی رکھتے ہوئے مطلوب خدائی امتحان دے سکے۔

لائف سپورٹ سسٹم اپنے آپ میں ایک درست لفظ ہے۔ اس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کی بدولت انسان کو اس زمین پر بقا اور ارتقا کا موقع ملتا ہے۔ لیکن یہ چیزیں انسان کی اپنی پیدا کی ہوئی نہیں ہیں۔ وہ انسان کو کسی حق کی بنا پر بھی نہیں ملی ہیں۔ یہ تمام چیزیں سرتا سر خدا کا انعام ہیں۔ ہر انعام کا ایک منعم ہوتا ہے اور ان چیزوں کا بھی ایک منعم ہے ، یعنی اُن کو دینے والا (giver)۔ لائف سپورٹ سسٹم کا تصور موجودہ کلچر کے پس منظر میں یہ ہوا کہ انعام کو منعم سے الگ کر دیا گیا : It detached the blessing from the Giver of blessing. یہ واقعہ جو پیش آیا ، وہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ بھیانک گمراہی پیش آئی کہ محاسبہ اور مواخذہ (accountability) کا تصور لوگوں کے ذہن سے نکل گیا۔ لوگوں نے زندگی کا مقصد بس یہ سمجھ لیا کہ پیسہ کماؤ اور چیزوں کو بازار سے خرید کر کے عیش و آرام کی زندگی گزارو۔ چیزوں کو صرف لائف سپورٹ سسٹم کے طور پر لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے چیزوں سے استفادہ تو کیا ، لیکن انھوں نے اس معاملے میں اپنی کوئی ذمے داری نہیں سمجھی ، جس کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان ایک

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page