Al-Risala · February 2014 · page 35

غلط تسمیہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۳۵

لائف سپورٹ سسٹم کا لفظ بظاہر ایک سادہ لفظ معلوم ہوتا ہے، لیکن جدید تصورِحیات کی روشنی میں دیکھیے تو یہ بھی غلط تسمیہ کی ایک مثال ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زندگی کی بقا اور ترقی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ انھیں چیزوں کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَاْتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوهُ وَاِنْ تَعُدُّ وا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا (14:34) یہ حقیقت پہلے بھی انسان کو مجمل طور پر معلوم تھی، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس نے اس حقیقت کو نہایت تفصیل کے ساتھ دریافت کیا ہے۔ ان چیزوں کی تفصیل اتنی زیادہ ہے کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ مثلاً سورج سے آنے والی روشنی اور حرارت، زمین کی متناسب قوتِ کشش، آکسیجن کی سپلائی کا حیرت انگیز نظام، پانی کا عظیم ذخیرہ اور بارش کا کائناتی نظام، زمین پر سبزہ اور حیوانات اور غذائی اشیا جیسے بے شمار اسباب۔ اس قسم کی ان گنت چیزیں زمین پر موجود ہیں، جن کے بغیر زمین پر نہ زندگی کی بقا ممکن ہے اور نہ تہذیب کی ترقی۔

مگر خدائی مذہب کے مطابق، یہ تمام چیزیں اصلاً صرف لائف سپورٹ سسٹم کے طور پر نہیں ہیں، بلکہ وہ ٹسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) کے طور پر ہیں۔ خالق کے منصوبے کے مطابق، ان چیزوں کی جو حیثیت ہے، وہ ٹسٹ سپورٹ سسٹم کی ہے، نہ کہ صرف لائف سپورٹ سسٹم کی۔ خالق کے منصوبے کے مطابق، یہ دنیا مقامِ امتحان (testing ground) کے طور پر بنائی گئی ہے۔ یہاں انسان کو جو آزادی ملی ہوئی ہے، وہ اُس کو نہ حق (right) کے طور پر ملی ہے اور نہ انعام کے طور پر، بلکہ وہ صرف امتحان کے طور پر ملی ہے۔ انسان اس دنیا میں امتحان کی حالت میں ہے۔ یہ امتحان موت کے لمحے تک باقی رہتا ہے۔ انسان کو آج جو زندگی بخش چیزیں حاصل ہیں، وہ صرف اس لیے ہیں تا کہ وہ اپنی زندگی اور اپنی سرگرمیوں کو باقی رکھتے ہوئے اپنا امتحان دے سکے۔ موت وہ لمحہ ہے، جب کہ امتحان کی یہ مدت ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ تمام اشیاء حیات بھی صرف موت کے وقت تک اس کا ساتھ دیتی ہیں۔ اس کے بعد انسان مکمل طور پر ان چیزوں سے جُدا ہو جاتا ہے۔

خالق کے نقشے کے مطابق ، انسان کی زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے۔ قبل از موت

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page