Al-Risala · February 2014 · page 40

مسیحی مذہب

الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۴۰

مسیحی مذہب

حضرت مسیح کی اصل تعلیمات عین وہی تھیں جو دوسرے تمام پیغمبروں کی تعلیمات تھیں، لیکن حضرت مسیح کے بعد مسیحی چرچ نے خود ساختہ تشریحات کے تحت، حضرت مسیح کی تعلیمات کو بدل دیا۔ آج جس چیز کو مسیحیت کہا جاتا ہے، وہ حضرت مسیح کا مذہب نہیں، بلکہ وہ مسیحی چرچ کا اپنا بنایا ہوا مذہب ہے۔ مسیحی مذہب کے اس مسیحی ایڈیشن کا آغاز سینٹ پال (St. Paul) سے ہوا۔ سینٹ پال مشہور مسیحی مبلغ ہیں۔ اُن کو مسیحیت کے مذہبی نظام میں اتنی زیادہ اہمیت ملی کہ ”عہد نامہ جدید‘‘ میں اناجیل اربعہ کے ساتھ، سینٹ پال کے خطوط (Epistles) بھی شامل کیے گئے۔ سینٹ پال کی وفات، حضرت مسیح کے بعد 67 عیسوی میں ہوئی۔ مسیحیت کا موجودہ مذہبی نظام زیادہ تر سینٹ پال کے نظریات پر قائم ہے:

Epistles, attributed to St. Paul, contain

fundamental statements of Christian doctrine. اس کے بعد 325 عیسوی میں مشہور نقیقا کونسل (Nicaea Council) منعقد ہوئی۔ اس کا انتظام قسطنطین اوّل (Constantine I) نے کیا تھا۔ اس کونسل میں مسیحی چرچ کے ذمے داران شریک تھے۔ اس کونسل میں جو باتیں طے ہوئیں، وہی آج مسیحی چرچ کی بنیاد ہیں۔ مسیحی چرچ کے موجودہ اعتقادی نظام میں کفارہ (atonement) کے عقیدے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح، انسانوں کی طرف سے کفارہ بن کر مصلوب ہوگئے۔ مسیحی چرچ کے اس عقیدے کے مطابق، انسان اول (آدم) نے جب ممنوعہ درخت کا پھل کھایا تو یہ گناہ کا ایک فعل تھا۔ اس کے نتیجے میں سارے انسان پیدائشی طور پر گنہگار بن گئے۔ اس کو مسیحی عقیدے میں گناہ اول (original sin) کہا جاتا ہے: The innate depravity which, in Christian theology, is held to be inherent in mankind as a direct result of Adam's sin of rebellion and which, in Roman Catholicism, is held to have resulted in the loss of sanctifying grace.

‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues

Printed page