آرین مذاہب
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۴۱
کفارہ (atonement) کے اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح، مسیحی عقیدے کے مطابق ، سولی پر چڑھادیے گئے، اس طرح اپنے آپ کو قربان کر کے انھوں نے تمام انسانوں کو پیدائشی گنہ گاری سے بری کر دیا:
The effect of Jesus's sufferings and death in redeeming mankind, and bringing about the reconciliation of God to man. کفارہ (atonement) کے اس عقیدے کے مطابق ، اب کسی انسان کی نجات کی صورت صرف یہ ہے کہ وہ حضرت مسیح پر اس حیثیت سے ایمان لائے کہ وہ اس کی نجات کے لیے مصلوب ہو گئے ۔ اب نجات صرف اُس انسان کے لیے ہے جو حضرت مسیح کی اِس مصلوبیت پر ایمان لائے۔ جو لوگ مصلوبیت کے اس عقیدے کا اقرار نہ کریں، اُن کے لیے نجات کی کوئی صورت نہیں۔ کفارے کا یہ عقیدہ عقلی اعتبار سے ایک ناقابل فہم عقیدہ ہے، حتی کہ وہ موجودہ بائبل (نیا عہد نامہ) کے اندر بھی واضح طور پر موجود نہیں۔ لیکن مسیحی چرچ کی بنیاد اس عقیدے پر قائم ہے۔ کفارے کا یہ عقیدہ ہر قسم کے اخلاقی محرک کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اس عقیدے کے مطابق، نجات کی شرط عمل صالح نہیں ہے، بلکہ کفارہ مسیح کے عقیدے کو ماننا ہے۔ ایسی حالت میں اس عقیدے کو ماننے کے بعد کوئی شخص نیک عمل کیوں کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسیحی چرچ کے مطابق، جس مذہب کا نام مسیحی مذہب ہے، اس میں اخلاقیات کے لیے کوئی محرک (incentive) سرے سے موجود نہیں۔ اب اگر مسیحی لوگ کچھ اخلاقی عمل کرتے ہیں تو وہ اپنی فطرت کے زور پر کرتے ہیں، نہ کہ اپنے مذہبی عقیدے کے زور پر، اس عقیدے نے مذہب کی اہم ترین تعلیم، خدا کے سامنے جواب دہی (accountability) کا سرے سے خاتمہ کر دیا ہے۔
آرین مذاہب
اس کے بعد آرین مذاہب کو لیجیے۔ آرین مذاہب میں مشترک طور پر کرم کا نظریہ (karma theory) پایا جاتا ہے۔ اس کو آواگون، یا پُنر جنم بھی کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues