خود اعتمادی
الرسالہ، فروری ۲۰۱۴، صفحہ ۴۶
خود اعتمادی
خود اعتمادی (self-confidence) ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے، یعنی اپنے آپ پر بھروسہ ہونا۔ ذاتی عزم کے تحت کوئی اقدام کرنا، اندیشوں کے بجائے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا منصوبہ بنانا، مسائل (problem) کو نظر انداز کر کے مواقع (opportunities) کو دریافت کر کے اُن کی بنیاد پر عملی اقدام کرنا — انھیں چیزوں کا نام خود اعتمادی ہے، اور خود اعتمادی بلاشبہ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کی لازمی شرط ہے۔
خود اعتمادی زندگی کی علامت ہے اور خود اعتمادی کا نہ ہونا موت کی علامت۔ لیکن خود اعتمادی کا ایک منفی پہلو (minus-point) بھی ہے، اور یہ منفی پہلو بڑی سے بڑی خود اعتمادی کو بے نتیجہ بلکہ ہلاکت خیز بنا سکتی ہے۔ خود اعتمادی کا یہ منفی پہلو وہ ہے جس کو بے جا اعتماد (over-confidence) کہا جاتا ہے۔
آپ کے راستے میں اگر ایک چھوٹی نہر ہے اور آپ اس کے ایک کنارے سے چھلانگ لگا کر اس کے دوسری طرف پہنچ جائیں تو یہ خود اعتمادی ہے، لیکن اگر آپ کے راستے میں ایک بڑا دریا ہے اور آپ اس کے ایک کنارے سے چھلانگ لگا دیں تو آپ اس کے دوسرے کنارے پر نہیں پہنچیں گے، بلکہ آپ دریا میں گر کر ہلاک ہو جائیں گے۔
اس دنیا میں ہر آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ اس کی اپنی ذات اور خارجی حالات۔ گویا کہ یہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ کسی کام کی کامیابی میں آپ کا حصہ پچاس فی صد ہوتا ہے اور بقیہ پچاس فی صد حصہ خارجی حالات کا ہوتا ہے۔
آپ کو چاہئے کہ عملی اقدام سے قبل آپ دونوں پہلوؤں کو دیکھیں۔ اگر آپ صرف اپنے ذاتی شوق کو دیکھیں اور خارجی حالات کو ملحوظ نہ رکھیں تو یقینی طور پر آپ کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا اور پھر آپ دوسروں کی شکایت کریں گے، حالاں کہ ناکامی کا سبب خود آپ ہوں گے، نہ کوئی دوسرا انسان۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2014 All issues